اتوار، 22 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

پیدائش 59: 24

’’لیکن اُس کی کمان مضبوط رہی اور اُس کے ہاتھوں اور بازوؤں نے یعقوبؔ کے قادِر کے ہاتھ سے قوت پائی۔‘‘
جو قوت خُدا اپنے یوسفوں کو دیتا ہے وہ ایک حقیقی قوت ہے۔ یہ کوئی شیخی بگھارنے والی بہادری ہے نہ کوئی افسانوی طاقت ، یا کوئی ایسی قوت جس کے بارے میں لوگ اکثر دیومالائی قسم کی باتیں کرتے ہیں مگر اُس کا انجام ہمیشہ ناکامی پر ہوتا ہے۔ یہ حقیقی الہٰی قوت ہے۔ یوسفؔ آزمائش کے خلاف کیوں قائم رہ پایا ؟ کیونکہ خُدا نے اُسے اپنی قوت اور مدد عطا فرمائی۔ خُدا کی قوت کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تمام حقیقی قوت ’’یعقوبؔ کے قادر خُدا‘‘ سے صادر ہوتی ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ خُدا نے کس طرح ایک نہایت مبارک اور بابرکت طریقے سے یوسفؔ کو اپنی اِس قوت سے ہمکنار کیا، ’’ اُس کے ہاتھوں اور بازوؤں نے یعقوبؔ کے قادِر کے ہاتھ سے قوت پائی‘‘ ۔ اِس لفظی تصویر میں خُدا کو یوسفؔ کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے، اور یوسف کے بازوؤں پر اپنے بازو رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جیسے کوئی باپ اپنے بچوں کو سکھاتا ہے، ویسے ہی خداوند اپنا خوف ماننے والوں کو سکھاتا ہے ۔ وہ اپنے بازو اُن پر پھیلاتا ہے۔ یہ کیسی حیرت انگیز عاجزی ہے کہ قادرِ مطلق، ازلی اور قادر خُدا ، اپنے تخت پر سے جھک کر اپنے فرزند یوسفؔ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا ، اور اُس کے بازو پر اپنا بازو پھیلا کر اُسے اپنا زور عطا کرتا ہے۔ یہ قوت عہد کی قوت بھی تھی، کیونکہ اِسے ’’یعقوب کے قادِر خُدا‘‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔ اب، بائبل مقدس میں آپ جہاں کہیں بھی یعقوبؔ کے خُدا کی بابت پڑھیں، آپ کو خُدا کی جانب سے یعقوبؔ کے ساتھ کیا گیا عہد بھی یاد آنا چاہئے۔ مسیحی ایماندار خُدا کے عہود پر سوچ بچار کرنا پسند کرتے ہیں۔ ساری قدرت، سارا فضل، ساری برکات، ساری رحمتیں، ساری تسلیاں، الغرض وہ سب نعمتیں جو اِس وقت ہمارے پاس ہیں، وہ اُسی منبع سے عہد کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔ اگر کوئی عہد نہ ہوتا، تو فی الحقیقت اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے ، کیونکہ سارا فضل عہد کے راستے عین اُسی طرح جاری ہوتا ہے، جیسے سورج سے روشنی اور حرارت۔ یعقوبؔ کی سیڑھی کے بغیر کوئی فرشتہ اُتر یا چڑھ نہیں سکتا نہیں جس کے ایک سِرے پر یعقوبؔ اور دوسرے پر عہد کرنے والا خُدا کھڑا تھا۔ اے مسیحی، ہو سکتا ہے کہ تیر اندازوں نے تجھے بہت دلگیر کیا ہو، اور اپنے جلتے ہوئے تیروں سے تجھ پر تابڑ توڑ حملے کر کر کے تجھے بُری طرح گھائل کر دیا ہو مگر پھر بھی تیری کمان مضبوط اور تیری قوت قائم رہے گی کیونکہ ابرہامؔ، اضحاقؔ اور یعقوبؔ کے ساتھ وعدے اور عہد کرنے اور اُنہیں نبھانے والا خُدا تیرے ساتھ ہے۔

ناحوم 1: 3

’’خداوند قہر کرنےمیں دھیما اور قدرت میں بڑھ کر ہے۔‘‘
یہوواہ ’’قہر کرنے میں دھیما ہے‘‘۔ جب خُدا دُنیا پر اپنی رحمت جاری کرتا ہے تو وہ رحمت پروں والے سُبک رفتار اور آتشی گھوڑوں اور برق رفتار رتھوں پر سفر کرتی ہے مگر جب اُس کا غضب جاری ہوتا ہے ، تو وہ اُسے دھیمی رفتار سے چلنے والی سواری کے ذریعے بھیجتا ہے ، کیونکہ خدا کسی گنہگار کی ہلاکت نہیں چاہتا۔ خُدا اپنے رحم کی لاٹھی ہمیشہ اپنے ہاتھوں میں تھامے رہتاہےمگر اپنے انصاف کی تلوار ہمیشہ اپنی میان میں رکھتا ہے، جسے اوپر سے محبت بھرے اُن چھِدے ہوئے ہاتھوں نے زور سے اندر دبا رکھا ہے جن میں انسان کی نجات اور بقا کے لئے بیش قیمت خُون بہایا گیا تھا۔ ’’خداوند قہر کرنے میں دھیما ہے،‘‘ کیونکہ وہ قدرت میں بڑھ کر ہے۔ وہ فی الحقیقت اپنی قدرت میں بڑھ کر ہے کیونکہ وہ سب چیزوں اور خُود اپنی ذات پر بھی قادر ہے۔ یہ خُدا کی قدرت ہی ہے جو اُسے اپنا قہر نازل کرنے سے دھیمے پن کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور اوپر سے انسانوں کے ساتھ اُس کی محبت اُس کے قہر پر مزید غالب آ کر اُسے مزید ہلکا اور سست کر دیتی ہے۔ ایک آدمی جو مضبوط دماغ کا مالک ہو وہ طویل عرصے تک اپنی توہین برداشت کر سکتا ہے، اور جب تک عدل کرنے کا صحیح موقع اور وقت نہ آ جائے وہ اُس وقت تک بدلہ نہیں لیتا۔ کمزور ذہن چھوٹی چھوٹی بات پر چڑ جاتا ہے جبکہ مضبوط دماغ رکھنے والے کا صبر ، برداشت اور استقامت چٹان جیسی پختہ ہوتی ہے جسے کبھی جنبش نہیں ہوتی، خواہ طعن و تشنیع کی ہزاروں لہریں اُس سے ٹکراتی رہیں وہ پوری دیدہ دلیری کے ساتھ اپنی ڈگر پر رواں دواں رہتا ہے۔ خُدا اپنے دشمنوں کو بخوبی جانتا ہے، مگر پھر بھی اپنے قہر کو فوراً حرکت میں نہیں لاتا ، بلکہ اپنے غیظ و غضب کو روکے رکھتا ہے۔ اگر وہ قہر کرنے میں اتنا دھیما نہ ہوتا جتنا وہ ہے ، تو وہ آج سے بہت پہلے اپنے سارے قہر کو دُنیا پر نازل کر چکا ہوتا، وہ اپنے غضب کے آسمانی ذخیروں کو خالی کر چکا ہوتا، وہ اس سے بہت پہلے زمین کو اِس کے زیریں حصوں کی حیرت انگیز آگ سے جھلسا چکا ہوتا، اور نسلِ انسانی صفحۂ ہستی سے کب کی مٹ چکی ہوتی ، مگر اُس کی محبت اُس کے غضب پر ہمیشہ غالب آ کر اُسے قہر کی بجائے فضل کو جاری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عزیز قاری، آج شام آپ کی حالت کیسی ہے؟ کیا آپ ایمان کی نظروں سے یسوعؔ کی طرف دیکھ سکتے ، اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ، ’’اے میرے عوضی خداوند، تُو ہی میری چٹان اور میرا توکل ہے‘‘؟اگر ایسا ہے تو پھر، عزیزو، خُدا کی قدرت سے مت ڈریں، کیونکہ اُس کے قہر کو بھانپتے ہوئے آج آپ اپنی پناہ کے لیے فوراً مسیح کی طرف بھاگ سکتے ہیں، اور اِسی لئے آج آپ کو خدا کے قہر سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ کسی جنگجو سورما کی ڈھال اور تلوار دیکھ کر وہ لوگ کبھی خوف نہیں کھاتے جن سے وہ محبت رکھتا ہے۔ بلکہ خوش ہوں کہ وہ جو ’’قدرت میں بڑھ کر ہے‘‘ آپ کا آسمانی باپ اور دوست ہے۔
15