جمعہ، 9 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یرمیاہ 31: 33

’’مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا۔‘‘
اے مسیحی، اِن الفاظ میں وہ سب کچھ ہے جو تُجھے درکار ہو سکتا ہے۔ تجھے اپنی حقیقی خوشی کے لیے کچھ ایسا درکار ہے جو تجھے پوری طرح سیر کرے، اور کیا یہ اس کے لیے کافی نہیں؟ اگر تُو اس وعدے کو اپنے پیالے میں انڈیل لے تو کیا تُو داؤد کے ساتھ مل کر یہ نہ کہے گا کہ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے اور مجھے میرے دِل کی مُراد سے بڑھ کر ملا ہے؟ جب یہ کلام پورا ہوتا ہے کہ ’’میں تیرا خدا ہوں‘‘ ، تو کیا تُو سب چیزوں کا مالک نہیں بن جاتا ؟ خواہش موت کی طرح کبھی سیر نہیں ہوتی ، مگر وہ جو سب کو سب کچھ دیتا ہے اِسے بھی سیر کر سکتا ہے۔ ہماری آرزوؤں کی وسعت کو کون ناپ سکتا ہے، مگر خدا کی بے قیاس دولت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میں تُجھ سے پوچھتا ہوں کہ جب خدا ہی تیرا ہو جائے تو کیا پھر بھی تُو ادھورا رہے گا؟ کیا خدا کے سوا تجھے اَور کسی چیز کی حاجت ہے؟ اگر باقی سب کچھ تجھے تسکین نہ دے سکے تو کیا فراہمی میں خُود کفیل خُدا تیرے لئے کافی نہیں ؟ مگر تجھے فقط خاموش تسکین سے بڑھ کر چاہئے یعنی وہ خوشی جسے سب دیکھیں ۔ اے میری جان، اس وعدے میں تیرے لیے وہ خُوشی پنہاں ہے جو صرف آسمان والوں کا نصیب ہے۔ تمام روح پرور سازوں کی راگنیاں ایک طرف اور اِس شیریں وعدے کی مدھر تان ایک طرف، ’’مَیں اُن کا خُدا ہوں گا‘‘۔اِس میں کیف و طرب کا ایک عمیق سمندر پایا جاتا ہے اور حقیقی مسرتوں کا ایک بحرِ بے کنار ۔ اے میری جان، آ اور اِس میں غوطہ زن ہو اور عمر بھر اِسی کے اندر محوِ فرحت رہ تو بھی تجھے اِس کا دوسرا سِرا کبھی نہیں ملے گا کیونکہ یہ ابدیت کا ایک ایسا بیکراں سمندر ہے جس کا کوئی کنارا ہے نہ پیندا ۔ اگر اِس وعدے کو سُن کر تیری آنکھوں میں چمک اور تیرے دِل میں مسرت پیدا نہیں ہوتی تو پھر تیری روحانی حالت ٹھیک نہیں۔ پھر تجھے اپنی حالیہ خوشیوں سے بڑھ کر کسی ایسی چیز کی طلب ہے جس پر تُو اپنی امید قائم کر سکے مگر اِس عظیم وعدے کی تکمیل سے بڑھ کر اُمید کی اَور کون سی بنیاد ہو سکتی ہے کہ ’’مَیں اُن کا خُدا ہوں گا‘‘۔ یہ سب وعدوں کا شاہکار وعدہ ہے جسے اگر ایمان سے بخوشی قبول کیا جائے تو یہ دھرتی ہی تیرے لئے آسمان بن جائے۔ اپنے مالک کے نور میں قائم رہ ، اپنی روح کو اس کی محبت سے سرشار رکھ ، اس وعدے کی لذت اور چکنائی سے آسودہ ہو ۔ اِس وعدے میں چھپے فضائل پر غور کر تو پھر تجھے ایسی خوشی نصیب ہوگی جو بیان سے باہر ہے۔

زبور 100: 2

’’خُوشی سے خُداوند کی عِبادت کرو۔‘‘
عبادت خُدا کی خوشنودی اور قبولیت کی کنجی ہے۔ جو لوگ اُداس چہرے کے ساتھ خُدا کی عبادت کرتے ہیں، وہ اُسے اپنے لئے بوجھ اور گراں سمجھتے ہیں ، اِسی لئے یہ کسی صورت خُدا کی مقبول عبادت نہیں کیونکہ وہ اُسے رسماً یا تعظیماً ادا تو کرتے ہیں مگر اُس میں زندگی نہیں ہوتی۔ ہمارا خُدا اپنے تخت کی شان و شوکت بڑھانے کے لئے غلاموں کا محتاج نہیں بلکہ وہ محبت کی سلطنت کا شہنشاہ ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کے خادم زندہ دِلی اور خُوشی کے ساتھ ملبس ہو کر اُس کی عبادت کریں۔ خُدا کے فرشتے آہیں بھرتے اور بڑبڑاتے ہوئے اُس کے حضور نغمہ سرائی نہیں کرتے بلکہ وہ خُوشی کے گیت گاتے ہوئے اُس کے حضور دِل سے اُس کی حمد کرتے ہیں کیونکہ موہوم سی آہ یا بڑبڑاہٹ اُن کے لشکر میں بغاوت متصور ہو گی۔ وہ فرمانبرداری جو خوش دِلی سے نہ ہو، نافرمانی کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ خُداوند دِل پر نگاہ کرتا ہے اور اگر وہ دیکھے کہ آپ اُس کی محبت سے سرشار ہو کر نہیں بلکہ مجبوری سے اُس کی عبادت کر رہے ہیں تو وہ ایسی قربانی کو فی الفور رد کر دیتا ہے۔ جو عبادت دِل سے کی جائے وہی حقیقی عبادت ہے۔ مسیحی ایماندار کی زندگی سے اگر خُوشی کے ساتھ خُدا کی عبادت اور خدمت کرنے کا جذبہ نکال دیا جائے تو اُس کی ساری ریاضت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اگر کسی آدمی کو جبراً جنگ پر بھیج دیا جائے اور اُس کے دِل میں وطن پرستی کا جذبہ ہی نہ ہو تو وہ جوانمردی کے جوہر کیا دکھائے گا، اِس کے برعکس حب الوطنی کے جذبے سے سرشار سپاہی کی آنکھوں کی چمک اور چہرے کی تابانی بتا دے گی کہ وہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لئے پوری طرح تیار ہے جس کا اظہار وہ جنگی نغموں میں اپنی سب سے اونچی اور مستعد آواز سے بھی کرتا ہے اور جنگی محاذ پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دیوانہ وار لڑنے سے بھی۔ دِلی خُوشی ہماری قوت کو دو آتشہ کر دیتی ہے کیونکہ خُداوند کی شادمانی ہماری اصل قوت ہے۔ یہ خُوشی مشکلات کو دُور کر دیتی ہے۔ یہ خُوشی ایسے ہی جیسے ریل گاڑی کے پہیوں کے لئے تیل۔ تیل کے بغیر دُھرا بہت جلد گرم ہو جاتا ہے اور حادثات کا موجب بنتا ہے ۔ اِسی طرح اگر ہماری عبادت میں خُوش دِلی شامل نہ ہو ، تو ہماری روحیں بہت جلد بوجھل ہو جاتی ہیں۔ جو شخص خُوشی سے خُدا کی عبادت کرتا ہے ، وہ اپنی فرمانبرداری کا ظاہری ثبوت پیش کرتا ہے اور صرف ایسا شخص ہی ایسے گیت گا سکتا ہے ،
؎ تُو میری خُوشی ہے تُو میرا مسح ہے
تُو میری قوت ہے
عزیز قاری، اب یہ سوال اپنےآپ سے کیجئے، کیا آپ خُوشی سے خُدا کی عبادت کرتے ہیں؟ آئیے ہم دُنیا کے لوگوں کو دِکھا دیں، جو ہماری دینداری کو غلامی گردانتے ہیں، کہ یہوواہ خُدا کی عبادت ہمارے لئے کتنی بڑی خُوشی اور شادمانی کی بات ہے ! آئیے اپنی شادمانی سے یہ اعلان کریں کہ ہم ایک بہت ہی نیک مالک کے خادم ہیں۔
30