منگل، 3 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

رومیوں 8: 12

’’پس اے بھائیو! ہم قرضدار ہیں۔‘‘
خدا کی مخلوق ہونے کے ناطے، ہم سب اُس کے قرضدار ہیں کہ اپنے سارے بدن، اپنی ساری روح اور اپنی ساری طاقت سے اُس کی فرمانبرداری کریں۔ اُس کے احکام کی حکم عدولی کے بعد، جو ہم سب سے سرزد ہوئی ، ہم اُس کے عدل و انصاف کے قرضدار ہیں، اور ہم پر اُس کا یہ قرض اِتنا بھاری ہے کہ اِسے ہم اپنے بل بوتے پر کسی صورت اور کبھی ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک مسیحی ایماندار کے بارے میں یہ پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ خُدا کے عدل کا کچھ قرضدار نہیں ، کیونکہ مسیح نے اپنے لوگوں کے ذمے واجب الادا قرض خُود اپنے بیش قیمت کا فدیہ دے کر ادا کر دیا ہے ۔ اِس سبب سے ، ایماندار اب فقط خُدا کی محبت کا قرضدار ہے۔ مَیں خُدا کے فضل اور اُس کی گناہ معاف کرنے والی رحمت کا قرضدار ہوں۔ لیکن مَیں اب اُس کے عدل کا قرضدار نہیں رہا ، کیونکہ وہ مجھ سے کبھی ایسے قرض کا مطالبہ نہیں کرے گا جو پہلے ہی ادا ہو چکا ہے۔ مسیح نے کہا، ’’تمام ہوا!‘‘ اور اِس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ اُس کے لوگوں پر جو کچھ بھی قرض تھا وہ یادگار کی کتاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا گیا ہے۔ مسیح نے الہٰی عدل کے سب تقاضوں کو پورا کر دیا ہے۔ ہمارا کھاتہ بےباق ہو چکا ہے بلکہ وہ پوری دستاویز ہی کیلوں کے ساتھ صلیب پر جڑ دی گئی ہے۔ رسید بھی دے دی گئی ہے، اور اب ہم الہٰی عدل کے قرضدار نہیں رہے۔لیکن پھر، چونکہ اب ہم اُس اعتبار سے تو اپنے خداوند کے قرضدار نہیں رہے، مگر دوسری طرف ہم خُدا کے پہلے سے کہیں دس گنا زیادہ قرضدار بن گئے ہیں ۔ اے مسیحی، ذرا ٹھہر اور ایک لمحے کے لیے اِس پر غور کر۔ تُو الہٰی فضل اور نجات کا کتنا بڑا قرضدار ہے! تُو اُس کی بے لوث محبت کا کتنا احسان مند ہے، کیونکہ اُس نے اپنا بیٹا بخش دیا تاکہ وہ تیری خاطر صلیب پر اپنی جان دے ۔ اِس بات پر غور کر کہ تُو اُس کے معافی بخش فضل کا کتنا قرضدار ہے کہ دس ہزار مرتبہ نافرمانی کے بعد بھی وہ تجھ سے ویسی ہی لامتناہی محبت کرتا ہے جیسے ہمیشہ کرتا تھا۔ ذرا غور کر کہ تُو اُس کی قدرت کا کتنا قرضدار ہے۔ اُس نے تجھے گناہ کی موت سے نکال کر کیسے زندگی میں داخل کیا۔ اُس نے تیری روحانی زندگی کو کیسے برقرار رکھا۔ اُس نے تجھے گرنے سے کیسے بچایا اور باوجود اِس کے کہ ہزارہا دُشمنوں نے تیرا راستہ روکنے کی کوشش کی ، مگر تُجھے اپنی راہ پر قائم رہنے کے توفیق اور قوت عطا کی گئی ۔ اِس بات پر بھی غور کر کہ تُو اُس خُدائے لاتبدیل کا اِس لئے بھی قرضدار ہےکہ اگرچہ تُو ہزار بار بدل گیا، لیکن وہ ایک بار بھی نہیں بدلا۔ اِسی تُو خدا کے باقی ہر ایک وصف کا بھی اِتنا ہی قرضدار ہے ۔ خدا کے حضور تُو خُود اپنی ذات بلکہ اپنی ہر چیز کا بھی قرضدار ہے۔ پس تیرے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے آپ کو پاک، بے عیب اور زندہ قربانی کے طور پر اُس کے حضور پیش کر دے، یہی تیری معقول عبادت ہے۔

غزل الغزلات 1: 7

’’مجھے بتا۔ تُو اپنے گلّہ کو کہاں چراتا ہے او ردوپہر کے وقت کہاں بِٹھاتا ہے۔‘‘
یہ الفاظ مسیح کے لیے ایماندار کی تڑپ اور اس کے ساتھ رفاقت کی شدید خواہش کو بیان کرتے ہیں۔ تو اپنا گلّہ کہاں چراتا ہے؟ اپنے گھر میں؟ اگر تُو مجھے وہاں ملے تو مَیں ضرور جاؤں گا۔ پوشیدہ دُعا میں؟ تو مَیں بلاناغہ دُعا کروں گا۔ کلام میں؟ تو مَیں اُسے شوق سے پڑھوں گا۔ اپنے آئین و دستور میں؟ تو مَیں پورے دِل سے اُس پر چلوں گا۔ مجھے بتا کہ تُو اپنا گلّہ کہاں چراتا ہے، کیونکہ جہاں بھی تُو چرواہے کے طور پر کھڑا ہوگا، وہیں میں بھیڑ بن کر تیرے قدموں میں لیٹ رہوں گا، کیونکہ تیرے سِوا کوئی میری ضرورت پُوری نہیں کر سکتا۔تُجھ سے دُور رہ کر مجھے سکون نہیں مل سکتا۔ میری روح تیری تازہ حضوری کے لیے بھوکی اور پیاسی ہے۔ تُو دوپہر کے وقت اپنے گلّے کو کہاں آرام دیتا ہے؟ کیونکہ صبح ہو یا دوپہر، میری واحد آرام گاہ وہیں ہے جہاں تُو اور تیرا عزیز گلّہ ہے۔ میرے دِل کی حقیقی تسلی تیرے فضل سے ملنے والا آرام ہے جو صرف تجھ ہی سے مل سکتا ہے۔ اُس چٹان کا سایہ کہاں ہے؟ بھلا مَیں اُس کے نیچے آرام کیوں نہ کروں؟ مَیں کیوں اُن لوگوں کی طرح بنوں جو تیرے رفیقوں کے گلّوں کے پاس بھٹکتے پھرتے ہیں؟ تیرے بھی رفیق ہیں، تو کیوں نہ مَیں بھی اُن میں سے ایک بن جاؤں؟ شیطان مجھ سے کہتا ہے کہ میں نامقبول ہوں، مگر مَیں تو ہمیشہ سے ہی نامقبول تھا لیکن تُو نے پھر بھی مجھ سے ہمیشہ محبت رکھی ۔ اس لیے میری نااہلی اب تیرے ساتھ میری رفاقت میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہ سچ ہے کہ میرا ایمان کمزور ہے اور میں بہت جلدی ڈگمگا جاتا ہوں، لیکن میری یہی کمزوری مجھے اُس جگہ پہنچنے کے لئے کھینچتی ہے جہاں تو اپنا گلّہ چراتا ہے، تاکہ میں تیری قربت میں رہوں، اور ہر طرح کے خوف و خطر سے محفوظ رہوں۔ میں کیوں بھٹکوں؟ میرے پاس بھٹکنے کی ہزاروں وجوہات ہیں مگر صرف ایک وجہ اُن سب پر بھاری ہے ، کیونکہ یسوع ؔمجھے اپنی طرف بُلا رہا ہے۔ اگر اُس نے خود کو تھوڑی دیر کے لیے اوجھل کِیا بھی ہے، تو صرف اِس لیے کہ مَیں اُس کی حضور ی کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا ہنر سیکھ جاؤں۔ اب جبکہ مَیں اُس سے دُور ہونے کی وجہ سے غمگین اور پریشان رہتا ہوں، وہ مجھے ایک بار پھر اپنی اُسی پناہ گاہ کی طرف لے جائے گا جہاں اُس کے گلّے کے برّے سورج کی تمازت سے محفوظ رہتے ہیں۔
18