پیر، 2 فروری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

عبرانیوں 9: 22

’’بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی۔‘‘
یہ کفارے کی لاتبدیل سچائی کی آواز ہے۔ یہودیوں کی کسی بھی رسم میں گناہوں کو خون بہائے بغیر ، حتیٰ کہ علامتی طور پر بھی ، دُور نہیں کیا جاتا تھا۔ کسی بھی صورت میں ، اور کسی بھی طرح سے، کفارے کے بغیر گناہ معاف نہیں ہو سکتا۔ پس ، یہ بات واضح ہے کہ مسیح کے سِوا کوئی امید نہیں؛ کیونکہ گناہ کے کفارے کی حیثیت سے اب کسی دوسرے خون کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ تو کیا مَیں اُس پر ایمان رکھتا ہوں؟ کیا اُس کے کفارے کا خون واقعی میرے سب گناہ دھو چکا ہے؟ اپنے لئے اُس کی ضرورت کے اعتبار سے تمام انسان ایک ہی سطح پر ہیں۔ چاہے ہم جتنے مرضی بااخلاق ہوں، سخی ہوں، ہمدرد ہوں یا محبِ وطن، اِس اصول میں ہمارے لئے استثنیٰ کی گنجائش پیداکرنے کے لئے رتی برابر بھی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ گناہ اُس کے خون سے کسی کمتر چیز سے مغلوب ہی نہیں ہو گا کیونکہ اُسے خُدا نے بنی نوع انسان کے کفارے کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔ یہ کتنی مبارک بات ہے کہ گناہوں کی معافی کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے یسوعؔ کا بیش قیمت خون! ہم بھلا کسی دوسرے راستے کی تلاش کیوں کریں؟محض رسمی دیندار لوگ اِس بھید کو سمجھ نہیں سکتے کہ ہم اِس بات پر کیسے خوش ہو سکتے ہیں کہ مسیح کے عوض ہمارے سب گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ اُنہیں اپنے کاموں ، دعاؤں اور ریاضتوں سے سکون نہیں ملتا اور اُن کی یہ بے چینی ہمارے لئے قطعاً حیرت کی بات نہیں، کیونکہ وہ اُس عظیم نجات کو نظر انداز کرتے ہوئے خون کے بغیر معافی حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ اے میری جان ! بیٹھ جا اور اِس بات کو پہچان کہ وہ عادل و منصف خُدا ، ہر ایک گناہ کی سزا دینے کا پابند ہےمگر ، غور کر کہ تیرے ایمان لانے کے باعث تیری ساری سزا خداوند یسوعؔ نے اپنے اوپر اُٹھا لی ۔ اِس لئے اب کمال عاجزی، خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ اُس کے قدموں میں سجدۂ تعظیم پیش کر جس کے اپنے قیمتی اور بےعیب خُون سے تیرا فدیہ دیا ہے۔جب ایک بار ضمیر بیدار ہو جائے تو اطمینانِ قلب کے لیے جذبات اور ظاہری ثبوتوں پر بھروسہ کرنا بے سُود ہو جاتاہے کیونکہ یہ ایک بُری اور افسوسناک عادت ہے جو ہم نے مصر کی اسیری میں سیکھی تھی۔ پشیمان ضمیر کا واحد علاج صلیب پر یسوعؔ کو مصلوب حالت میں دیکھناہے۔ لاویوں کی شریعت کہتی ہے کہ ’’خون میں جان ہے‘‘ ، جس بنا پر ہم بھی پورے وثوق سے یہ کہتے ہیں کہ یسوعؔ نے اپنی جان دے کر ہماری جان کو ابدی ہلاکت سے بچا لیا ہے۔
؎ آہ! بہتا ہے میرے منجی کا یہ خون کتنا پیارا
اُس پر ایمان لا کر ملا مجھ کو ہے سہارا
کامل صلح کرائی میری خدا سے اُس نے
دیکھو مسیح کے خون سے میرا ہوا کفارہ

1۔ تواریخ 4: 22

’’یہ پرانی تواریخ ہے۔‘‘
خُدا کے کلام کی سچائیاں اِس قدر قدیم اور عمیق ہیں کہ کسی انسان کے لئے اِن کی حدود و گہرائی تک پہنچنا محال ہے مگر اِن کے اندر ہماری روحوں کی شادمانی کا بھید مضمر ہے۔ آئیے ایک لمحے کے لیے اُن پر غور و خوض کریں اور اُنہیں ویسے ہی دہرائیں جیسے کوئی مالدار اپنے مال کا شمار کرتاہے ۔جس الہٰی انتخاب کے تحت آسمانی باپ نے ہمیں چُنا اور ہمیشہ کی زندگی کے لئے مُقرر کِیا ، واقعی بے حد قدیم بات ہے، ایسی قدیم کہ انسانی عقل اُس کے آغاز کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ اُس نے ہمیں بنایِ عالم سے پیشتر مسیح میں چُن لیا تھا۔ اِس انتخاب کے ساتھ اُس کی ازلی و ابدی محبت بھی شامل تھی، کیونکہ یہ محض مشیتِ ایزدی کا کوئی سادہ سا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اِس میں خُدا باپ کی گہری رغبت اور قلبی محبت بھی شامل تھی ۔ باپ نے ابتدا ہی سے ہمارے ساتھ محبت رکھی۔ یہ بلاناغہ غور و فکر کے لائق اور ایک بڑا مضمون ہے۔ہماری تباہ حالی کو پیشتر سے دیکھتے ہوئے ہمیں چھڑانے، پاک و صاف کرنے اور آخر کار ابدی جلال میں شامل کرنے کا ازلی منصوبہ اور مقصد بھی اُتنا ہی قدیم ہے جتنی خُدا کی لاتبدیل محبت۔ اِس عہد کو ہمیشہ ’’ازلی و ابدی‘‘ ہی بیان کیا گیا ہے، اور اِس عہد کا دوسرا فریق، یعنی یسوعؔ ، بھی ازل سے ہے بلکہ کتابِ مقدس میں اُسے قدیم الایام بھی کہا گیا ہے۔ پہلے ستارے کے چمکنے سے بھی بہت پہلے اس نے ایک پاک عہد باندھا ، اور اُسی عہد میں اُس نے ہم برگزیدوں کو ہمیشہ کی زندگی کے لیے نامزد اور مقرر کر دیا گیا تھا۔اِس طرح خدا کے بیٹے اور اُس کے لوگوں کے درمیان ایک ایسا مبارک عہد قائم ہُوا ، جو زمانوں کے پورا ہو جانے کے بعد بھی ابدالآباد جاری و ساری رہے گا۔ کیا اِن قدیم سچائیوں سے واقف ہونا ہمارے فائدہ مند نہیں؟ یہ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی اکثریت اِن سچائیوں کو نظر انداز کر دیتی اور قدیم و دقیانوسی قرار دے کر اِن سے کنی کتراتی ہے۔ اگر وہ اپنے گناہ کی وسعت کو حقیقی معنوں میں جانتے ، تو اُن کی زبانیں اِس امتیازی فضل کی ستائش کرتے کبھی نہ تھکتیں۔ آئیے آج کی شام ہم اِس فضلِ بے پایاں کی تمجید میں مل کر گائیں،
؎فضل کا اِک نشاں ہُوں مَیں
لہُو سے ہُوں دُھلا ہُوا
رحمت کا ایک نشاں ہوں مَیں
مَیں بندہ تیرا چُنا ہُوا
تیری کتابِ حیات میں
ہے نام بھی لکھا ہُوا
8