یرمیاہ 23: 6
’’خداوند ہماری صداقت‘‘۔
مسیح کی کامل صداقت پر غور و فکر کرنا ہمیشہ ایک مسیحی کے لئے اطمینان ، تسلی ، راحت اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ خدا کے مقدسین اکثر مایوس اور افسردہ ہو جاتے ہیں! میرا نہیں خیال کہ اُنہیں ایسا کرنا چاہیے۔ اگر وہ مسیح میں اپنی کاملیت کو پورے طور پر دیکھ سکیں تو مَیں نہیں سمجھتا کہ وہ دوبارہ کبھی اُداس ہوں گے۔ کچھ لوگ ہمیشہ اپنی خواہشات کی محرومی، بدحالی اور روح کی باطنی برائی کے بارے میں بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے، لیکن ہمیں اِس سے تھوڑا آگے بڑھ کر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ’’مسیح یسوعؔ میں کامل‘‘ ہیں۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جو لوگ اپنی خرابیوں پر سوچتے رہتے ہیں اُن کے چہرے اِتنے اُداس کیوں نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ہم یہ بات یاد رکھیں کہ ’’مسیح ہماری صداقت بن گیا‘‘ تو ہمارے دِل خوشی کے مارے جھوم اُٹھیں گے ۔ روزمرہ زندگی کے گوناگوں دُکھ ہمیں خواہ لاکھ پریشان دیں، شیطان بھی خواہ مجھ پر بار بار حملہ آور ہو، آسمان پر پہنچنے سے پہلے خواہ مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، میری صداقت اپنے خداوند یسوعؔ مسیح میں پہلے ہی کامل ہو چکی ہے۔ کیونکہ میرے خداوند میں کسی چیز کی کمی نہیں، اور اُس نے میری زندگی میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ صلیب پر اُس نے کہا، ’’تمام ہوا!‘‘ اور اب اگر سب کچھ پورا ہو چکا ہے تو میری صداقت بھی اُس میں کامل اور مکمل ہو چکی ہے ۔ یہ بات میرے لئے ایسی خوشی کا باعث ہے جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔ اب میری صداقت شریعت پر موقوف نہیں بلکہ وہ جو مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے فضل پر منحصر ہے، یعنی وہ صداقت جو خدا کی طرف سے ایمان کی بنیاد پر ملتی ہے۔ آپ کو آسمان کے اُس پار اُن لوگوں سے زیادہ پاک اور مقدس قوم اَور کہیں نہیں ملے گی جو مسیح کی صداقت کے عقیدے کو اپنے دِلوں میں جگہ دے کر وہاں جا پہنچی ہے ۔ جب ایماندار کہتا ہے کہ، ’’میں صرف مسیح کی بدولت جیتا ہوں؛ میں اپنی نجات کے لیے صرف اُس پر بھروسہ کرتا ہوں؛ اور میرا ایمان ہے کہ چاہے میں کتنا ہی نالائق کیوں نہ ہوں، میں پھر بھی اپنے یسوعؔ مسیح میں کامل ہوں‘‘۔ اِس بڑے استحقاق کے لئے شکر گزاری کے طور پر دِل میں یہ خیال ضرور اُبھرتا ہے کہ ’’کیا اب میں مسیح کے لیے نہ جیوں؟ کیا میں اُس سے محبت نہ کروں اور اُس کی خدمت نہ کروں، یہ جانتے ہوئے کہ میں اُس کی صداقت، راستبازی اور پاکیزگی کے سبب سے بچایا گیا ہوں؟‘‘ مسیح کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے تاکہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لیے نہ جئیں بلکہ اُس کے لیے جئیں جو اُن کے واسطے مؤا۔ اگر ہمیں مسیح کی اِس صداقت کے بل بوتے پر نجات ملی ہے تو آئیے آج کے دِن اِس صداقت کی بے حد قدر اور شکرگزاری کریں ۔
2۔ سموئیل 18: 23
’’تب اخمیعض میدان سے ہو کر دوڑ گیا اور کُوشی سے آگے بڑھ گیا۔‘‘
صرف دوڑنا ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، بلکہ دوڑنے کے عمل میں راستے کا انتخاب بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تیز رفتار مسافر جو پہاڑوں اور وادیوں کے کٹھن راستے پر چل رہا ہو، وہ اس سست رفتار مسافر کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو ہموار میدان میں محوِ سفر ہو۔ میری روحانی مسافرت کا کیا حال ہے؟ کیا میں اپنے اعمال کے پہاڑوں پر چڑھنے اور اپنی ندامتوں اور ارادوں کی کھائیوں میں اُترنے کی مشقت کر رہا ہوں، یا میں ’’ایمان لاؤ اور زندگی پاؤ‘‘ کے ہموار راستے پر دوڑ رہا ہوں؟ ایمان کے ذریعے خداوند کی راہ کو تکنا کتنی بڑی برکت کی بات ہے! ایمان کی راہ پر چلتے ہوئے روح تھکاوٹ کے بغیر دوڑتی ہے اور غش کھائے بغیر چلتی ہے۔ یسوعؔ مسیح زندگی کی راہ ہے، اور وہ ایک ہموار اور خوشگوار راستہ ہے، جو کانپتے ہوئے گنہگاروں کے ڈگمگاتے قدموں اور کمزور گھٹنوں کے لیے موزوں ہے؛ کیا میں اُس راستے پر پایا جاتا ہوں، یا میں کسی اَور پگڈنڈی کی تلاش میں ہوں جس کا دعویٰ اور وعدہ انسانی فلسفہ یا مذہبی رسومات کی جانب سے کیا جاتا ہے ؟ مَیں نے پاکیزگی کی راہ کے بارے میں پڑھا ہے کہ اُس پر چلنے والا مسافر چاہے کتنا ہی نادان کیوں نہ ہو، بھٹک نہیں سکتا۔ کیا میں اپنی متکبرانہ سوچ سے نجات پا چکا ہوں اور ایک چھوٹے بچے کی طرح یسوعؔ کی محبت اور اُس کے خون پر بھروسہ کرنے کے لیے اُس کی حضوری میں لایا گیا ہوں؟ اگر ایسا ہے، تو خدا کے فضل سے مَیں اس زور آور ترین دوڑنے والے سے بھی آگے نکل جاؤں گا جو کسی دوسرے راستے کا انتخاب کئے ہوئے ہے۔ مَیں اپنی روزمرہ فکروں اور ضرورتوں کے گرداب میں اِس سچائی کو اپنے فائدے کے لیے یاد رکھ سکتا ہوں۔ میرے لیے یہی سب سے دانشمندانہ طریقہ ہوگا کہ میں فوراً اپنے خدا کے پاس جاؤں، نہ کہ اِدھر اُدھر دوستوں کے پاس بھٹکتا پھروں۔ وہ میری سب ضرورتوں کو جانتا اور اُنہیں مہیا کر سکتا ہے، تو بھلا میں دُعا کی براہِ راست درخواست اور اُس کے وعدوں کی سادہ دلیل کے ساتھ اُس کے سوا اَور کس کے پاس جاؤں؟ ’’سیدھا راستہ ہی دوڑنے والے کو کامیاب بناتا ہے‘‘۔ مَیں خادموں کے ساتھ بحث نہیں کروں گا بلکہ اُن کے مالک کے پاس پہنچنے میں جلدی کروں گا۔اس حوالے کو پڑھتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ اگر انسان عام معاملات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکل جاتے ہیں، تو مجھے بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ ایسے دوڑنا چاہیے کہ جیتوں اور انعام حاصل کر سکوں۔ اے خداوند، میرے ذہن کو جِلا بخش اور میری مدد فرما ، تاکہ مَیں اُس نشان کی طرف بڑھتا رہوں جو مسیح یسوعؔ میں خدا کی طرف سے میری اعلیٰ بلاہٹ کا اجر اور انعام ہے۔