جمعرات، 29 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ کرنتھیوں 4: 18

’’اندیکھی چیزیں‘‘۔
اپنی مسیحی مسافرت کے بیشتر حصے میں، ہمارے لئے ایمان کی آنکھوں سے آگے کی طرف دیکھتے رہنا ہی بہتر ہے۔ صرف ایمان کی آنکھوں سے ہی اندیکھی چیزوں کو دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ آسمانی منزل اور وہاں کے جلالی تاج ۔ چاہے وہ اُمید ہو، خوشی ہو، تسلی ہو یا ہماری محبت کی تحریک، ایمان کی آنکھ کا اصل مرکز مستقبل ہی ہونا چاہیے۔ مستقبل میں جھانکتے ہوئے ، ایمان کی آنکھوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گناہ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، گناہ اور موت کا بدن فنا ہو چکا ہے، اور روح کامل ہو کر نُور میں مقدسوں کی میراث میں اُن کے ساتھ شریک ہے۔ مزید آگے دیکھیں گے ، تو ایماندار کی روشن آنکھ موت کے دریا کو عبور کر کے ، اُداس لہروں کو پار کرتے ہوئے اور اُن نُورانی پہاڑوں تک دیکھ سکتی ہے جہاں آسمانی شہر واقع ہے۔ وہاں ہم خود کو موتیوں کے پھاٹکوں میں داخل ہوتے، فتح سے بڑھ کر غلبہ پانے والے کے طور پر بلائے جاتے، مسیح کے ہاتھوں سے تاج پہنتے، یسوعؔ کی آغوش میں سماتے ، اُن سب مقدسوں کے ساتھ جلال پاتے اور اُن کے ساتھ جلالی تخت پر براجمان ہوتے ہوئے عین اُسی طرح دیکھ سکتے ہیں جیسے وہ خود غالب آ کر اپنے باپ کے ساتھ تخت پر جا بیٹھا تھا۔ مستقبل کا یہ خیال ماضی کی تاریکی اور حال کی اُداسی کو دُور کر سکتا ہے۔ آسمان کی خوشیاں یقیناً زمین کے دُکھوں کا معاوضہ ثابت ہوں گی۔ اے میرے شبہات، خاموش ہو جاؤ! موت محض ایک چھوٹی سی ندی ہے جسے ہم جلد ہی پار کر لیں گے۔ زندگی کتنی مختصر اور ابدیت کتنی طویل ہے! موت کتنی عارضی اور لافانیت کتنی لامتناہی ہے! مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ابھی سے وادیِ اِسکال کے انگوروں کے خوشے کھا رہا ہوں اور اُس چشمے سے پانی پی رہا ہوں جو پھاٹک کے اندر ہے؛ راستہ بہت ہی مختصر ہے اور میں جلد وہاں پہنچ جاؤں گا۔
؎جب زمانہ دل پہ اپنے غم کے سائے ڈال دے
فکر کی آندھی چلے، سب چین ہم سے چھین لے
میرے اچھے سوچ پھر اوپر فلک تک جا پہنچیں
اور مایوسی کے لمحوں سے مجھے آزاد کرے
راہِ زندگی میں میرا ساتھ دے ایماں مرا
جب تلک یہ سفرِ ہستی ہو نہ جائے ختم سا
خوف آئیں، درد ہوں، مشکل ہو یا ہو امتحاں
پھر بھی آخر میں میں اپنے گھر پہنچوں گا ذرا

پیدائش 8: 11

’’اور وہ کبوتری شام کے وقت اُس کے پاس لوٹ آئی‘‘۔
رحمتوں بھرے ایک اَور دن کے لیے خداوند کا نام مبارک ہو ! اب اگرچہ مَیں دن بھر کی مشقت سے تھک گیا ہوں مگر انسانوں کے محافظ کے حضور میں اپنا شکر گزاری کا گیت پیش کرتا ہوں کیونکہ جس طرح کبوتری کو کشتی سے باہر کہیں آرام نہ ملا اور وہ واپس لوٹ آئی ، بالکل اِسی طرح میری روح نے بھی آج یہ سیکھ لیا ہے کہ دُنیاوی چیزوں میں کوئی حقیقی اطمینان نہیں اور صرف خدا ہی میری روح کو حقیقی آرام دے سکتا ہے۔ میرا کاروبار، میری جائیداد، میری خاندان اور میری کامیابیاں اپنی جگہ سب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب چیزیں میری لافانی روح کی آرزوؤں کو پورا نہیں کر سکتیں۔ پس اے میری روح! اپنے آرام کی طرف لوٹ ، کیونکہ خداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔ یاد کیجئے، وہ خاموشی کی گھڑی جب دِن کے کواڑ بند ہو رہے تھے، تو کبوتری ماندہ پروں کے ساتھ اپنے مالک کے پاس لوٹ آئی۔ اُسی طرح اے خداوند! مجھے توفیق عطا فرما کہ آج کی شام مَیں بھی یسوعؔ کی طرف لوٹ سکوں۔ وہ کبوتری لق و دق ویرانے کے اوپر ایک رات بھی گزارنا برداشت نہ کر سکی اور نہ ہی مَیں اپنے قلبی سکون کی جگہ اور اپنی حقیقی آرام گاہ یعنی یسوعؔ کی آغوش سے ایک گھڑی بھی دُور رہنا برداشت کر سکتا ہوں۔ پھر، وہ آ کر صرف کشتی کی چھت پر نہیں بیٹھی بلکہ ’’اُس کے پاس اندر آئی ‘‘، بالکل اِسی طرح میری مشتاق روح خداوند کے بھیدوں کو جاننا، سچائی کی گہرائی میں اُترنا، پردے کے اندر داخل ہونا اور اپنے محبوب خداوند کی قربت تک پہنچنا چاہتی ہے۔ مجھے پلٹ کر یسوعؔ ہی کے پاس آنا ہے کیونکہ اُس کے ساتھ قریبی اور گہری رفاقت کے بغیر میری پیاسی روح کو قرار نہیں آ سکتا۔ اے پیارے یسوع! میرے ساتھ ہو، اپنے آپ کو مجھ پر ظاہر کر اور پوری رات میرے ساتھ رہ تاکہ جب مَیں صبح بیدار ہوں تو اُس وقت بھی تجھے اپنے پاس ہی پاؤں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ کبوتری اپنے منہ میں زیتون کی ایک پتی بھی لائی جو گزرے ہوئے دِن کی یادگار اور مستقبل کی پیشگوئی تھی، تو کیا میرے پاس گھر لانے کے لیے کوئی خوشگوار یادگار نہیں؟ کیا آنے والی مہربانیوں کا کوئی بیعانہ میرے پاس نہیں؟ ہاں میرے خداوند! میں تیری اُن نرم و گداز رحمتوں کے لیے تیری شکر گزاری کرتا ہوں جو ہر صبح نئی اور ہر شام تازہ ہوتی ہیں، اور اب مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اپنا ہاتھ بڑھا اور اپنی اِس کبوتری کو اپنی آغوش میں لے لے۔
ہاتھ بڑھا اور اپنی اِس کبوتری کو تھام لے۔ بسالے مجھے اپنی آغوشِ محبت میں ، اےمیرے خداوند!
18