منگل، 27 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یوحنا 1: 16

’’کیونکہ اُس کی معموری میں سے ہم سب نے پایا ۔‘‘
یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ مسیح میں ایک خاص قسم کی معموری پائی جاتی ہے ۔ اُس میں الوہیت کی جوہری معموری پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ’’الوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے‘‘ ۔ پھر اُس میں کامل انسانیت کی معموری بھی بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے جس کے تحت وہ الوہیت جسم میں ظاہر ہوئی۔ اُس کے خون میں فدیہ دینے لائق کفارے کی ساری معموری بھی پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ’’اُس کے بیٹے یسوعؔ کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ ۔ پھر اُس کی زندگی میں راستباز ٹھہرانے لائق راستبازی کی معموری بھی پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ’’اب جو مسیح یسوعؔ میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں‘‘۔ اُس کی التجا میں الہٰی غلبے کی معموری پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ’’جو اُس کے وسیلہ سے خُدا کے پاس آتے ہیں وہ اُنہیں پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ اُن کی شفاعت کے لئے ہمیشہ زندہ ہے‘‘۔ اُس کی موت میں فتحمندی کی معموری پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے’’ تاکہ موت کے وسیلہ سے اُس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی یعنی ابلیس کو تباہ کر دے‘‘۔ پھر اُس کی ذات میں مُردوں میں سے زندہ ہونے اور زندہ کرنے کی معموری پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ یوں اُس نے ’’اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ اُمید کے لئے نئے سِرے سے پیدا کیا‘‘۔اُس کے آسمانی صعود میں اجر دینے کی معموری پائی جاتی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ جب وہ ’’عالمِ بالا پر چڑھا تو قیدیوں کو ساتھ لے گیا اور آدمیوں کو انعام دئیے‘‘۔ الغرض، مسیح کی ذات ہر طرح کی برکات اور فضائل کی معموری سے مرصع و مسجع ہےیعنی معاف کرنے والے، نئے سرے سے پیدا کرنے والے، پاک کرنے والے، محفوظ رکھنے والے اور کامل بنانے والے فضل کی معموری۔ یہ معموری سب وقتوں میں یکساں رہتی ہے گویا دکھ میں تسلی اور خوشحالی میں رہنمائی کی معموری۔ اس میں ہر الہٰی صفت، حکمت، قدرت اور محبت کی وہ معموری ہے جس کا جائزہ لینا انسانی فہم کے لئے ناممکن اور کھوج لگانا اُس سے بھی کٹھن ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ’’باپ کو یہ پسند آیا کہ ساری معموری اُسی میں سکونت کرے‘‘۔ آہ! یہ کیسی معموری ہوگی جس سے سب فیض یاب ہوتے ہیں؛ یہ واقعی ایک ایسی معموری ہے جس کا چشمہ مسلسل جاری و ساری ہے مگر پھر بھی ازل کی طرح رواں دواں ، مالامال اور لبریز ہے۔ پس اے ایماندار، تُو آ اور اپنی ساری ضرورتیں پوری کر؛ خوب مانگ اور تجھے خوب ملے گا، کیونکہ یہ ’’معموری‘‘ لازوال ہے اور وہاں محفوظ ہے جہاں ہر ضرورت مند کی دسترس ہے، یعنی یسوعؔ میں، جو عمانوایل یعنی ’’خدا ہمارے ساتھ‘‘ ہے۔

لوقا 2: 19

’’مگر مریمؔ اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غور کرتی رہی۔‘‘
مقدسہ مریمؔ اپنی ذات کی تین قوتوں کو کام میں لائی یعنی اپنی یادداشت کو جس کے تحت اُس نے اِن سب باتوں کو اپنے حافظے میں محفوظ رکھا؛ اپنی مامتا کو جس کے تحت اُس نے انہیں اپنے دل میں جگہ دی؛ اور پھر اپنی عقل کو جس کے تحت اُس نے اُن پر غور کیا؛ چنانچہ اِن سب باتوں کے بارے میں اُس کی یادداشت، مامتا اور عقل سب فعال اور متحرک تھیں۔ اے عزیز قاری، تُو یاد رکھ کہ تُو نے اپنے خداوند یسوعؔ کے بارے میں کیا کچھ سُن رکھا ہے اور اُس نے تیرے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔ اپنے دل کو مَن کا وہ سنہرا برتن بنا لے جس میں اُس آسمانی روٹی کی یادگار محفوظ رہے جس سے تُو گزشتہ ایام میں سیر ہوتا رہا ہے۔ اپنی یادداشت میں مسیح کے بارے میں ہر وہ چیز جمع کر لے جسے تُو نے محسوس کیا، جانا یا جس پر ایمان لایا ہے، اور پھر اپنی والہانہ اُلفت سے اُسے ہمیشہ کے لیے تھام لے۔ اپنے خداوند کی ذات سے محبت کر! اپنے دل کے سنگِ مرمر کے عطر دان کو نکال، خواہ وہ ٹوٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو، اور اپنی الفت کا تمام قیمتی عطر اس کے چھِدے ہوئے قدموں پر بہنے دے۔ خداوند یسوعؔ کے بارے میں اپنی عقل کو استعمال کر اور جو کچھ تُو پڑھتا ہے اس پر غور و فکر بھی کِیا کر؛ صرف سطح پر نہ رُک جا بلکہ گہرائی میں غوطہ لگا؛ اُس ابابیل کی مانند نہ ہو جو صرف اپنے پروں سے ندی کو چھوتی ہے، بلکہ اُس مچھلی کی مانند ہو جو لہروں کی تہہ تک ڈُبکی لگاتی ہے۔ اپنے خداوند کی رفاقت میں سکونت کر؛ اُسے اپنے لئے کوئی ایسا مسافر نہ بننے دے جو صرف ایک رات کے لیے ٹھہرتا ہے، بلکہ اُسے یہ کہہ کر مجبور کر کہ ’’آج تُو میرے ساتھ رہ کیونکہ شام ہُوا چاہتی ہے‘‘۔ اُسے تھام لے اور جانے نہ دے۔ لفظ ’’غور کرنے‘‘ کا مطلب ہے ناپ تول کرنا۔ پس اپنے فیصلے کے ترازو تیار کر لے؛ مگر آہ، وہ پلڑے کہاں ہیں جو مسیح کا ناپ تول کر سکیں؟ کیونکہ یہ وہ ہے جس نے ’’ٹیلوں کو ترازو میں تولا‘‘ اور ’’پہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کیا۔‘‘ تو ہم اُسے کن پلڑوں میں تولیں گے؟ اگر تیرا فہم و ادراک اُسے سمجھ نہیں سکتا تو اپنی اُلفت سے اُسے تھام لے؛ اور اگر تیری روح خداوند یسوعؔ کو اپنے فہم کی گرفت میں نہیں لا سکتی، تو اُسے اپنی محبت کے بازوؤں میں بھر لے۔
12