ہفتہ، 24 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

زبور 91: 3

’’ کیونکہ وہ تُجھے صیّاد کے پھندے سے چُھڑائے گا۔‘‘
خُدا اپنے لوگوں کو دو طریقوں سے صیّاد کے پھندے سے چھڑاتا ہے۔ اُس سے بچا کر ، اور اُس میں سے نکال کر۔ اول، وہ اُنہیں پھندے سے محفوظ رکھتا ہے یعنی اُنہیں اُس میں پڑنے ہی نہیں دیتا؛ اور دوم، اگر وہ اُس میں پھنس جائیں، تو وہ اُنہیں اُس میں سے نکال لاتا ہے۔ پہلا وعدہ بعض کے لیے بہت قیمتی ہے اور دوسرا دوسروں کے لیے بہترین ہے۔’’وہ تجھے صیّادکے پھندے سے چھڑائے گا ‘‘۔ کیسے۔؟ اکثر اوقات ، خُدا مصیبت میں ڈال کر ہمیں کسی بڑی بُرائی کے پھندے میں پھنسنے سے بچا لیتا ہے۔ بہتیروں کو خُدا نے دُکھوں میں پڑنے اور صلیبوں کو اُٹھانے کے ذریعے تباہی سے بچایا بلکہ جیسے خُدا جانتا ہے کہ ہماری برگشتگی کا انجام ہماری ناگہاں ہلاکت پر ہوگا ، اِس لیے وہ اپنی رحمت سے تادیب کی لاٹھی کو بھیجتا ہے۔ ہم بے اختیار کہہ اُٹھتے ہیں، ’’اے خداوند، یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟‘‘ نہ جانتے ہوئے کہ ہماری یہ مصیبت ہمیں اُس سے کہیں بڑی ہلاکت سے بچانے کا وسیلہ بنتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دُکھوں اور اپنی صلیبوں کے ذریعے اِسی طرح تباہی سے بچائے گئے جیسے کوئی ناگہاں خوف پرندوں کو جال میں پھنسنے سے بچا لیتا ہے۔ دوسری طرف، خدا اپنے لوگوں کو بڑی روحانی قوت عطا کر کے صیّاد کے پھندے سے چھڑا لیتا ہے، تاکہ جب اُن پر بدی کے لئے کوئی آزمائش آئے تو وہ کہہ سکیں ، ’’بھلا مَیں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خُدا کا گنہگار بنُوں؟‘‘لیکن یہ کیسی بابرکت بات ہے کہ اگر ایماندار کسی بُری گھڑی کے پھندے میں پھنس بھی جائے، تو بھی خُدا اُسے اُس میں سے نکال لائے گا! اے برگشتہ انسان، ہمت ہار لے مگر مایوس نہ ہو۔ اگرچہ تُو بھٹکتا رہا ہے، مگر سُن کہ تیرا مخلصی دینے والا کیا کہتا ہے، ’’اے برگشتہ فرزندو، لوٹ آؤ؛ مَیں تمہاری برگشتگی کا چارہ کروں گا‘‘۔ لیکن تُو کہتا ہے کہ مَیں واپس نہیں آ سکتا کیونکہ مَیں پھندے میں پھنس چکا ہوں۔ تو پھر اِس وعدے کو سن، ’’وہ یقیناً تجھے صیّاد کے پھندے سے چھڑائے گا‘‘۔وہ تجھے اُن تمام برائیوں سے نکال لے گا جن میں تُو اپنی کسی نادانی کے سبب سے گِرا ہے، اور چاہے تُو اپنی روشوں سے رجوع لانے کے لئے کبھی باز نہ آئے گا، پھر بھی وہ جس نے تجھ سے محبت رکھی ہے تجھے رد نہ کرے گا؛ وہ تجھے قبول کر کے تجھے خوشی اور شادمانی سے ہمکنار کرے گا تاکہ تیری جان از سر نو بحال ہو کر اُس کی شکرگزاری کرے۔ وہ آسمان کی بادشاہی کے کسی پرندے کو صیّاد کے پھندے میں مرنے نہیں دے گا۔

لوقا 10: 40

’’ لیکن مر تھا خِدمت کرتے کرتے گھبرا گئی ۔‘‘
مرتھاؔ کا قصور یہ نہیں تھا کہ وہ خدمت کرنے سے عاجز آ چکی تھی بلکہ وہ اپنی بہن کے روئیے سے عاجز تھی۔ خدمت کرنا تو آسمان کے شاہی خاندان سے وابستہ تمام شہزادے شہزادیوں کا استحقاق ، شعار اور نصب العین ہونا چاہیے۔ نہ ہی اُس کا یہ قصور تھا کہ وہ ’’بہت خدمت‘‘ کر چکی تھی۔ ہم کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے بہت خدمت کی ہے۔ آئیے ہم سب اپنے اپنے تئیں حتی الوسع خدمت کریں یعنی جتنی ہم ممکنہ طور پر کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ دِل و جان سے اپنے مالک کا کام کریں۔اُس کا یہ قصور بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے خداوند کے لیے ضیافت کی تیاری میں مصروف تھی۔ مرتھاؔ خوش نصیب تھی کہ اُسے اتنے مبارک مہمان کی میزبانی کا موقع ملا؛ اور شاید اِسی وجہ سے وہ اُس نے اپنی پوری جان اِس کام میں لگا دی۔ اُس کی اصل غلطی یہ تھی کہ وہ ’’ خدمت کرتے کرتے گھبرا گئی‘‘، یعنی اُسے بیک وقت اتنے کام انجام دینے پڑے کہ وہ خداوند کو بھول گئی اور اُسے صرف خدمت ہی یاد رہی ۔ اُس نے خدمت کو رفاقت پر فوقیت دی، اور یوں اُس نے ایک فرض کی قیمت پر دوسرے فرض کو نبھانے کی کوشش کی ۔ہمیں مرتھاؔ اور مریمؔ دونوں کا نمونہ بننا چاہیےیعنی ہمیں بہت خدمت بھی کرنی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ گہری رفاقت بھی جاری رکھنی چاہیے۔ اِس کے لیے ہمیں بہت بڑے فضل کی ضرورت ہے۔ رفاقت رکھنے کی نسبت خدمت کرنا آسان ہے۔ یشوعؔ عمالیقیوں سے لڑتے لڑتے کبھی نہ تھکا؛ لیکن موسیٰ ؔکو پہاڑ کی چوٹی پر دُعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سنبھالنے کے لیے دو مددگاروں کی ضرورت پڑ گئی۔ روحانی مشق جتنی گہری ہوگی، ہم اُتنی ہی جلدی تھک جائیں گے۔ اعلیٰ ترین پھلوں کی پرورش سب سے زیادہ مشکل ہوتی ہے اور آسمانی نعمتوں کی آبیاری کرنا سب سے کٹھن کام ہے۔عزیزو، جہاں ہمیں ظاہری کاموں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو کہ اپنی جگہ عمدہ ہوتے ہیں، وہاں ہمیں اِس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ہم یسوع کے ساتھ مستعد اور شخصی رفاقت سے بھی لطف اندوز ہونا جاری رکھیں۔ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ نجات دہندہ کے قدموں میں بیٹھنے کا فریضہ کبھی نظر انداز نہ ہونے پائے ، خواہ اُس کا بظاہر کتنا ہی اچھا بہانہ کیوں نہ ہو کہ ہم بھی تو اُس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہماری اپنی روحانی تندرستی اور خدمت کے ساتھ ساتھ اُس کے جلال کے لیے بھی سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو خداوند یسوع ؔ مسیح کے ساتھ شخصی رفاقت میں بھی مشغول رکھیں، کیونکہ ہمارے لئے اِس امر کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا لازم ہے کہ ہمیں خدمت کے علاوہ اپنے ایمان کی حقیقی روحانیت کو بھی قائم اور برقرار رکھنا ہے۔
27