جمعرات، 22 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

حزقی ایل 15: 2

’’اے آدم زاد، کیا تاک کی لکڑی اور درختوں کی لکڑی سے یعنی شاخِ انگور جنگل کے درختوں سے کُچھ بہتر ہے؟‘‘
یہ الفاظ خُدا کے لوگوں کو خاکسار بنانے کے لیے ہیں؛ وہ خُدا کی تاک کہلاتے ہیں، لیکن اپنی فطرت کے اعتبار سے کیا وہ دوسروں سے بڑھ کر ہیں؟ وہ خُدا کی مہربانی سے بارآور ہوئے ہیں کیونکہ وہ اچھی زمین میں لگائے گئے؛ خداوند نے مقدِس کی دیواروں پر اُن کی پرورش کی ہے اور وہ اُس کے جلال کے لیے پھل لاتے ہیں؛ لیکن اپنے خُدا کے بغیر اُن کی کیا حیثیت ہے؟ روح‌القدس کے پیہم اثر کے بغیر وہ کیا ہیں جو اُن میں یہ بارآوری پیدا کرتا ہے؟اے ایماندار، تکبر کو ترک کرنا سیکھ کیونکہ تیرے پاس اِس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تُو جو کچھ بھی ہے، تیرے پاس ایسا کچھ نہیں جس پر تُو ناز کرے۔ تیرے پاس جتنا زیادہ ہے، تُو اتنا ہی خُدا کا قرضدار ہے؛ اور تجھے اُس چیز پر ہر گز فخر نہیں کرنا چاہیے جو تجھے مقروض بناتی ہو۔ اپنی اوقات اور اصلیت پر غور کر اور پیچھے مڑ کر دیکھ کہ تُو کیا تھا۔ غور کر کہ اگر تُجھ پر خُدا کا فضل نہ ہوتا تو تُو کیا ہوتا۔اپنے موجودہ مقام اور حیثیت کو دیکھ۔ کیا تیرا ضمیر تجھے ملامت نہیں کرتا؟ کیا تیری ہزاروں لغزشیں تیرے سامنے کھڑی ہو کر تجھے یہ نہیں بتاتیں کہ تُو اس کا بیٹا کہلانے کے لائق نہیں تھا؟ اور آج اگر اُس نے تجھے کچھ بنا دیا ہے، تو کیا تجھے اس سے یہ سبق نہیں ملتا کہ یہ صرف اُس کا فضل ہی ہے جس نے تجھے دوسروں سے ممتاز کیا؟ اے عظیم ایماندار، اگر خُدا تجھے مختلف نہ بناتا تو تُو ایک بڑا گنہگار ہوتا۔ اے سچائی کے لیے دلیر ی کا دعویٰ کرنے والے، اگر خُدا نے فضل نے تجھے نہ تھاما ہوتا تو تُو بطالت کے لیے بھی اِتنا ہی بہادر ہوتا۔اس لیے تکبر نہ کر، اگرچہ تیرے پاس خُدا کے فضل کی ایک وسیع و عریض جائیدادہے، مگر ایک وقت ایسا تھا کہ تیرے پاس گناہ اور مصیبت کے سِوا اپنا کہنے کو کچھ نہ تھا۔ آہ! یہ کیسی عجیب نادانی ہے کہ تُو، جسے سب کچھ احسان میں ملا ، خود کو ایک بڑا آدمی سمجھنے لگا ہے؛ تُو جو اپنے نجات دہندہ کی سخاوت پر پلنے والا ایک غریب محتاج ہے اور جس کی زندگی یسوعؔ کی طرف سے ملنے والی زندگی کے تازہ چشموں کے بغیر ایک پل بھی قائم نہ رہے گی، اور اُس پر بھی مغرور ہے! اے نادان ، تجھ پر افسوس!

ایوب 1: 9

’’کیا ایوبؔ یوں ہی خُدا سے ڈرتا ہے؟‘‘
یہ ایک قدیم راستباز شخص کے بارے میں شیطان کا شرارت بھرا سوال تھا، لیکن آج کے دَور میں بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کے بارے میں عدل کے ساتھ یہ پوچھا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ خُدا سے ایک خاص طریقے سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ انہیں خوشحال بناتا ہے؛ لیکن اگر اُن کے حالات تھوڑے بگڑ جائیں، تو وہ خُدا پر اپنے تمام فخریہ ایمان کو چھوڑ نے میں لمحہ بھر تامل نہیں کرتے۔ اگر وہ واضح طور پر یہ دیکھ سکیں کہ اُن کے دِل کی نام نہاد تبدیلی کے وقت سے دُنیا میں اُن کے حالات سازگار رہے ہیں، تو وہ اپنے ناقص طبعی طریقے سے خُدا کے ساتھ محبت رکھیں گے؛ لیکن اگر اُنہیں ذرہ سی مصیبت کا بھی سامنا کرنا پڑے، تو وہ خداوند کے خلاف بغاوت پر اُتر آتے ہیں۔ اُن کی محبت دسترخوان سے ہے نہ کہ میزبان سے؛ وہ گھر کے مالک سے نہیں بلکہ اُس کی عنایتوں سے محبت رکھتے ہیں۔ جہاں تک حقیقی مسیحی کا تعلق ہے، وہ اگلے جہان میں اپنے اجر کی اُمید رکھتا اور اِسی ایمان کی بدولت اِس زندگی کی سختیوں کو برداشت کرتا ہے۔ پرانے عہد کا وعدہ مصیبت ہے۔ مسیح کے اِن الفاظ کو یاد کیجئے کہ، ’’ہر وہ ڈالی جو مجھ میں ہے اور پھل نہیں لاتی‘‘۔ کیا؟ ’’وہ اُسے چھانٹتا ہے تاکہ وہ زیادہ پھل لائے‘‘۔ اگر آپ پھل لانا چاہتے ہیں ، تو آپ کو دُکھ سہنا پڑے گا۔ آپ کہتے ہیں، ’’ہائے! یہ کیسی خوفناک بات ہے‘‘۔لیکن یاد رکھیں، دُکھ اُٹھا کر ہی پھل لایا جاتا ہے اور وہ مسیحی جو دُکھوں کے تجربہ میں اکثر گزرتا رہتا ہے وہی بہت سا پھل بھی لاتا ہے ۔ اِس لئے آپ کو مصیبتوں میں خوش رہنے کا ہنر ضرور سیکھنا چاہیے، کیونکہ جیسے جیسے ایماندار کی مصیبتیں بڑھتی جاتی ہیں، ویسے ویسے خداوند یسوعؔ مسیح کے وسیلہ سے اُس کی تسلی اور برکت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یقین کیجئے ، اگر آپ خُدا کے حقیقی فرزند ہیں، تو آپ تادیب کی لاٹھی سے ناواقف نہیں رہیں گے۔ جلد یا بدیر سونے کی ہر ڈلی کو آگ میں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ڈریں نہیں، بلکہ اِس بات پر خوش ہوں کہ آپ کے لیے ایسے بابرکت مواقع آنے والے ہیں، جن کے ذریعے آپ کا دِل دُنیا سے اُچاٹ ہو جائے گا اور آپ آسمان کے لائق بن جائیں گے؛ آپ اِس دُنیا اور اِس کی چیزوں کے ساتھ چمٹے رہنے کی عادت سے نجات پائیں گے اور اُن ابدی چیزوں کے مشتاق بن جائیں گے جو بہت جلد آپ پر ظاہر ہونے والی ہیں۔ جب آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ اِس موجودہ زندگی میں یوں ہی خُدا کی عبادت اور خدمت نہیں کر رہے ، تو پھر آپ مستقبل کے لامتناہی اجر کی شادمانی ضرور پائیں گے۔
11