رومیوں 26:11
’’اور اِس صورت میں تمام اسرائیل نجات پائے گا۔‘‘
جب موسیٰؔ نے بحرِ قلزم پر گیت گایا، تو اُس کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات تھی کہ بالآخر تمام اسرائیل کو چھٹکارا نصیب ہُوا۔ جب تک خدا کی قوم بنی اسرائیل کے آخری شخص نے سلامتی کے ساتھ اُس سمندر کے پار قدم نہ رکھ دیا، تب تک پانی کی اُس ایستادہ دیوار سے پانی کا ایک بھی قطرہ نیچے نہ گرا۔ جب وہ پار اُتر گئے، تو فوراً ہی سمندر دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آ گیا، لیکن اُس سے پہلے نہیں۔ اِس گیت کا ایک حصہ یہ تھا کہ، ’’ اپنی رحمت سے تُو نے اُن لوگوں کو جن کو تُو نے خلاصی بخشی راہنمائی کی ‘‘۔ اخیر زمانہ میں، جب برگزیدہ لوگ خدا کے بندے موسیٰ ؔور برّہ کا گیت گائیں گے، تو یہی بات ہمارے خداوند یسوعؔ مسیح کے لئے بھی باعثِ صد افتخار ہوگی کہ، ’’جنہیں تُو نے مجھے دیا، مَیں نے اُن میں سے کسی کو بھی نہ کھویا‘‘۔ آسمان پر ایک بھی تخت خالی نہیں ہوگا۔
؎برگزیدہ نسل جو چنی گئی
تخت کے گرد وہ جمع ہوگی
کرے گی وہ فضل کی حمد و ثنا
جلال اُس کا بتائے گی سدا
جتنوں کو خدا نے چُنا ہے ، جتنوں کو مسیح نے چھڑایاہے ، جتنوں کو روحالقدس نے بلایاہے ، اور جتنے یسوعؔ پر ایمان لائے ہیں، وہ سب اُس عمیق و بسیط سمندر کو سلامتی سے پار کر لیں گے۔ ہم سب ابھی تک سلامتی کے کنارے پر نہیں پہنچے:
؎لشکر کا ایک حصہ پار جا چکا
اور ایک حصہ ابھی پار کر رہا
اِس لشکر کا ہراول دستہ پہلے ہی ساحل پر پہنچ چکا ہے۔ ہم گہرائیوں میں سے گزر رہے ہیں۔ ابھی ہم اپنے راہنما کے پیچھے پیچھے سمندر کے عین وسط میں پورے جذبے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ آئیے حوصلہ رکھیں کیونکہ ہمارا پچھلا دستہ بھی جلد وہاں پہنچ جائے گا جہاں ہراول دستہ پہلے سے موجود ہے؛ برگزیدہ لوگوں میں سے آخری شخص بھی جلد ہی سمندر پار کر جائے گا، اور پھر فتح کا شادیانہ سنائی دے گا جب سب کے سب سلامتی کی سرزمین پر پہنچ جائیں گے۔ لیکن آہ! اگر ایک بھی کھو جاتا، یا اگر اُس کے برگزیدہ خاندان کا ایک بھی فرد پیچھے چھوڑ دیا جاتا، تو اِس سے مخلصی پانے والوں کے جشن میں بدمزگی پیدا ہو جاتی اور جنت الفردوس کے سازوں کے تار گویا ٹوٹ جاتے، یہاں تک کہ ہر طرف صفِ ماتم بچھ جاتی۔
قضاۃ 15: 18
’’اور اُس کو بڑی پیاس لگی۔ تب اُس نے خُداوند کو پُکارا اور کہا تُو نے اپنے بندہ کے ہاتھ سے ایسی بڑی رہائی بخشی۔ اب کیا مَیں پیاس سے مرُوں اور نامختونوں کے ہاتھ میں جا پڑوں؟‘‘
سمسونؔ پیاسا تھا اور پیاس کے مارے جاں بلب تھا۔ یہ مشکل اِس سورما کے لیے اُن تمام مشکلات سے بالکل مختلف تھی جن کا اُس نے ابھی ابھی سامنا کیا تھا۔ محض پیاس بجھانا اس قدر بڑی بات نہیں جتنی ایک ہزار فلستیوں سے چھٹکارا پانا! لیکن جب اُسے پیاس لگی، تو سمسونؔ کو یہ چھوٹی سی درپیش مصیبت ماضی کی اُس بڑی مشکل سے کہیں زیادہ بھاری محسوس کیا جس سے اُسے خاص طور پر رہائی ملی تھی۔ خُدا کے لوگوں کے لیے یہ ایک عام بات ہے کہ جب وہ کسی بڑی رہائی کا جشن مناتے ہیں ، تو اگلی چھوٹی سی مصیبت اُن کو بہت بھاری محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سمسونؔ ایک ہزار فلستیوں کو ہلاک کر کے گویا کشتوں کے پُشتے لگا دیتا ہے، مگر پھر چند بوند پانی کے لیے نڈھال ہو جاتا ہے! یعقوبؔ فنی ایل میں خُدا کے ساتھ کشتی لڑتا اور قادرِ مطلق پر غالب آتا ہے، اور پھر ’’اپنی ران سے لنگڑاتا ہوا ‘‘ جاتا ہے! یہ عجیب بات ہے کہ جب بھی ہم فتح پاتے ہیں، تو کمزوری کا احساس بھی ساتھ ہی آ دھمکتا ہے۔ گویا خداوند ہمیں ہماری اوقات اور حدود میں رکھنے کے لیے کمتری اور بے بسی کس سبق سکھاتا ہے۔سمسونؔ نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ، ’’مَیں نے ایک ہزار آدمیوں کو مارا‘‘۔ اس کا فخر بھرا حلق جلد ہی پیاس سے بیٹھ گیا اور اُسے دُعا کا سہارا لینا پڑا۔ خُدا کے پاس اپنے لوگوں کو خاکسار کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ اے خدا کے عزیز فرزند! اگر بڑی رحمت کے بعد آپ بہت پست ہو گئے ہیں، تو آپ کا معاملہ کوئی انوکھا نہیں ہے۔ جب داؤدؔ اسرائیل کے تخت پر بیٹھا، تو اس نے کہا کہ، ’’اگرچہ مَیں ممسوح بادشاہ ہُوں تو بھی آج کے دِن عاجز ہوں‘‘۔ آپ کو اُس وقت کسی بڑی کمزوری کی توقع کرنی چاہیے جب آپ اپنی سب سے بڑی فتح سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔اگر خُدا نے ماضی میں آپ کے لیے رہائی کے بڑے بڑے کام کیے ہیں، تو آپ کی موجودہ مصیبت محض سمسونؔ کی پیاس کی مانند ہے، اور خداوند آپ کو ہمت نہیں ہارنے دے گا، اور نہ ہی نامختونوں کو آپ پر غالب آنے دے گا۔ دُکھ کی راہ ہی آسمان کی راہ ہے، لیکن اِس پورے راستے میں تازگی بخش پانی کے کنویں اطراف میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ پس، اے آزمائش سے دوچار بھائی اور بہن! سمسونؔ کے الفاظ سے اپنے دل کو تسلی دے ، اور یقین رکھ کہ خُدا جلد ہی تُجھے اِس سے بھی رہائی دے گا۔