کلسیوں 4: 2
’’دُعا کرنے میں مشغول ۔۔۔رہو۔‘‘
یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ کتابِ مقدس کا ایک بڑا حصہ دُعا کے موضوع پر مشتمل ہے اور دُعا گو ایمانداروں کی قابلِ تقلید مثالوں، متعلقہ عقائد کی ترویج یا وعدوں کے اعلانات سے مزین ہے۔ بائبل مقدس کھولتے ہی ہم پڑھتے ہیں کہ ’’اُس وقت سے لوگ یہوواہ کا نام لے کر دُعا کرنے لگے‘‘ اور جیسے یہاں انسانی تاریخ کے ایک انتہائی اہم دَور کا اختتام اور اگلے دَور کا آغاز دُعا کے خصوصی ذکر سے ہوتا ہے ویسے ہی ہمیں بھی اِس نئے سال کے ابتدائی دِنو ں میں دُعا پر اپنی خاص توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ دُعا کی مثالیں بہت زیادہ ہیں۔ یہاں ہم یعقوبؔ کو کُشتی لڑتے ہوئے اور دانی ایلؔ کو دِن میں تین بار دُعا کرتے ہوئے نیز داؤدؔ کو اپنے پورے دِل سے خُدا کو پکارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اُدھر ہمیں پہاڑوں پر ایلیاہؔ نظر آتا ہے اور کال کوٹھری میں پولسؔ اور سیلاس۔ پھر ہمیں حکموں اور وعدوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے۔ اِن سب چیزوں سے ہم دُعا کی فصیلت و اہمیت اور ضرورت کے علاوہ اَور کیا سیکھتے ہیں؟ ایک بات ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ بات جس کا خُدا نے اپنے کلام میں نمایاں ذکر کیا ہے، اُس کی بابت اُس کا ارادہ یہی ہے کہ ہم اُسے اپنی زندگیوں میں بھی اُتنا ہی نمایاں مقام دیں۔ اگر اُس نے دُعا کے بارے میں اتنا کچھ کہا ہے تو اِسی لئے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمیں اِس کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ ہماری ضروریات اتنی گھمبیر ہیں، کہ جب تک ہم آسمان پر چلے نہیں جاتے تب تک ہماری زندگیوں سے دُعا موقوف نہیں ہونی چاہئے۔ کیا آپ کی کوئی ضرورت نہیں؟ پھر، معاف کیجئے گا آپ نہیں جانتے کہ آپ کتنے غریب ہیں۔ کیا آپ کو خُدا سے کوئی نعمت درکار نہیں؟ پھر، خُدا وند کی رحمت ہی آپ کی مفلسی آپ پر ظاہر کر سکتی ہے! جس زندگی میں دُعا نہیں اُس زندگی میں مسیح نہیں۔ دُعا ایک شِیر خوار کی تتلاہٹ، ایک جنگجو ایماندار کی للکار اور یسوعؔ میں قریب المرگ مقدس کی ابدی نیند میں اُترنے کی لوری ہے۔ یہ ہر مسیحی کی سانس، تکیہ کلام، تسلی، قوت اور عزت ہے۔ اگر آپ خُدا کے حقیقی فرزند ہیں تو اپنے باپ کے دیدار کے طالب ہونا اور اپنی زندگی کو اُس کی محبت میں بسر کرنا آپ کا معمول ہوگا۔ دُعا کیجئے کہ اِس سال آپ پاک ، فروتن، بیدار اور صابر بننے کے ساتھ ساتھ مسیح کی قربت اور رفاقت میں بڑھتے اور ترقی کرتے ہوئے اُس کی محبت بھری ضیافت گاہ میں داخل ہو سکیں۔ دُعا کریں کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بابرکت اور پُر فضل زندگی کا نمونہ بن کر اپنی زندگی کو اپنے مالک کے جلال کے لئے گزار سکیں۔’’دُعا میں زیادہ سے زیادہ مشغولیت‘‘ کو اِس سال کے لئے اپنا نصب العین بنا لیجئے۔
یسعیاہ 41: 1
’’اُمتیں از سرِ نو زور حاصل کریں۔‘‘
سب زمینی چیزیں بحال کئے جانے کی محتاج ہوتی ہیں۔ کوئی مخلوق از خود بحال نہیں ہو سکتی۔ زبور نویس کہتا ہے کہ ’’تُو رویِ سال کو نیا بنا دیتا ہے‘‘۔ یہاں تک کہ اشجار جنہیں کوئی ایسی فکر لاحق نہیں ہوتی جو اُنہیں ماندہ کرے اور نہ ہی اُنہیں کوئی مشقت کرنا پڑتی ہے جس سے اُن کی عمر کوتاہ ہو جائے ، پھر بھی اُنہیں آسمان کی بارش سے تازگی اور زمین کے پوشیدہ خزانوں سے روئیدگی حاصل کرنا پڑتی ہے۔ خُدا کے لگائے ہوئے لبنان کے دیودار بھی اِسی لئے شاداب رہتے ہیں کیونکہ وہ بھی روزبروز اپنے لئے زمین سے تازہ نمکیات کشید کر کے اُنہیں مسلسل اپنے اندر ذخیرہ کئے رکھتے ہیں۔ اِسی طرح انسانی حیات بھی خُدا سے از سرِ نو زور حاصل کئے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ جیسے بدن کے مضمحل حصوں کو بار بار غذا کھانے کے ذریعے تقویت اور مرمت بہم پہنچائی جاتی ہے ، ویسے ہی ہمیں بھی خُدا کی کتاب کونوش کرنے ، یا کلام کی منادی کو سننے اور یا پھر پاک میز کے لوازمات کے ذریعے اپنی مضمحل روح کو خوراک کھلانا پڑتی ہے۔ جب ہم اِن ذرائع کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تو ہماری نعمتیں کیسی ماند پڑنے لگتی ہیں!اُن مقدسین کی روحیں کس قدر فاقہ کشی سے دوچار ہوں گی جو خُدا کے کلام اور دعائیہ خلوت کے مستعد استعمال سے ہٹ کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں! اگر ہماری دینداری خُدا کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے تو یہ الہٰی تخلیق کا وصف ہرگز نہیں بلکہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے کیونکہ ایسی صورت میں ہماری روح اُس کی حضوری کی ایسے کبھی مشتاق نہ ہوتی جیسے پھول اوس کے منتظر ہوتے ہیں۔ مسلسل بحالی حاصل کئے بغیر ہم کبھی جہنم کے حملوں یا آسمان کی کڑی مصیبتوں یا اپنی باطنی چپقلشوں کے لئے ہمہ وقت کمر بستہ نہیں رہ سکتے۔ جب بگولہ اُٹھے گا تو اُس پیڑ پر افسوس کیا جائے گا جس نے بروقت زمین سے نمی جذب کی ، نہ اپنی جڑوں کے ذریعے مضبوط چٹان پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔ جب بھنور اُٹھتے ہیں تو اُن ملاحوں پر افسوس کیا جاتا ہے جنہوں نے بروقت اپنے بادبان مضبوط کئے نہ لنگر ڈالے اور نہ ہی کھاڑی میں پناہ لی۔ اگر ہم اپنی کاہلی کے باعث کمزور پڑ جائیں تو شریر کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت مجتمع کر کے ہم پر ایسا حاوی ہو جائے کہ جس کے بعد ہمیں ایک اذیت ناک تباہی سے دوچار ہونا پڑے تو پھر ایک نوحہ انگیز رسوائی ہمارا مقدر بن جاتی ہے۔ آئیے، عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے ہوئے اُس شفقت سے بھرے ہوئے خُدا کے قدموں میں آئیں، جس نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ’’خُداوند کا اِنتظار کرنے والے از سرِ نو زور حاصل کریں گے۔‘‘