جمعرات، 15 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2۔ سموئیل 7: 25

’’جیسا تُو نے فرمایا ہے ویسا ہی کر۔‘‘
خُدا کے وعدے ہمیں اس لیے ہر گز نہیں دئیے گئے کہ ہم اُنہیں ردی کے کاغذ کی طرح ایک طرف پھینک دیں، بلکہ خُدا نے یہ سب وعدے ہمارے ساتھ اِس لئے کئے ہیں کہ ہم اِن سے بھرپور استفادہ کریں اور فیضیاب ہوں۔ خدا کی دولت کسی کنجوس کی پوٹلی میں باندھ کر رکھنے یا نکمے نوکر کی طرح زمین میں چھپا کررکھنے کی چیز نہیں، بلکہ وہ اِس لئے دی جاتی ہے کہ ہم اُس سے لین دین کریں۔ کوئی بات ہمارے خداوند کو اس سے زیادہ خوش نہیں کرتی کہ وہ اپنے وعدوں کو استعمال ہوتے دیکھے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اُس کے فرزند اُس کی حضوری میں آ کر یہ کہتے ہوئے اُسے اُس کے وعدے یاد دلائیں کہ ، ’’اے خداوند، جیسا تُو نے فرمایاہے ویسا ہی کر۔‘‘جب جب ہم خُدا کے وعدوں کا ذکر کرتے ہیں تو ہم خُدا کو جلال دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ خُدا ہمیں اپنے وعدوں کی دولت سے مالامال کر کے ، خُود غریب ہو جائے گا؟ یا کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اپنی پاکیزگی ہمیں دے کر اُس کی اپنی پاکیزگی کم پڑ جائے گی؟ یا کیا آپ کو لگتا ہے کہ اِس طرح اُس کے پاس ہمارے گناہوں کو دھونے لائق راستبازی کم پڑ جائے گی؟ اُس نے خود فرمایا ہے کہ ’’آؤ ہم باہم حجت کریں ۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چند وہ ارغوانی ہوں تو بھی اُون کی مانند اُجلے ہوں گے۔‘‘ ایمان معافی کے وعدے کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، اور یہ کہنے میں قطعاً دیر نہیں لگاتا کہ یہ تو ایک قیمتی وعدہ ہے، معلوم نہیں سچ بھی ہے یا نہیں، بلکہ وہ اسے لے کر سیدھا تخت کے پاس جاتا اور التجا کرتا ہے، ’’اے خداوند، یہ رہا تیرا وعدہ، جیسا تُو نے فرمایا ہے ویسا ہی کر‘‘۔ اور ہمارا خُداوند جواب دیتا ہے، جا، جیسا تُو چاہتا ہے تیرے لئے ویسا ہی ہو‘‘۔جب کوئی مسیحی ایماندار خُدا کے کسی وعدے کو تھام تو لیتا ہے مگر اُسے خُدا کے پاس نہیں لے جاتا تو وہ خدا کی بے توقیری کرتا ہے، لیکن جب وہ یہ پُکارتے ہوئے فضل کے تخت کی طرف دوڑتا ہےکہ ، ’’اے خداوند، میرے پاس اپنی سفارش کے لیے کچھ نہیں، سوائے اِس کے کہ تُو نے یہ فرمایاہے‘‘، تو اُس کی درخواست ضرور پوری کی جائے گی۔ ہمارا آسمانی بینکار اپنے وعدوں کی پوری پوری ادائیگی کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔خُدا کے وعدے کو کبھی زنگ نہ لگنے دیں۔ وعدے کے کلام کو اس کی نیام سے نکالیں اور اِسے مقدس زور آوری کے ساتھ کام میں لائیں ۔ یہ مت سمجھیں کہ خُدا اپنے وعدوں کی یاد دہانی پر ہم سے ناراض ہوگا۔ وہ ضرورتمند زندگیوں کی پُرزور فریادیں سُننا پسند کرتا ہے۔ اپنے فضل کو جاری کرنے میں ہی اُس کی خُوشنودی ہے۔ وہ آپ کے مانگنے سے زیادہ دینے پر آمادہ ہے۔ سورج روشنی دیتے دیتے نہیں تھکتا، نہ ہی چشمہ بہتے بہتے رک جاتا ہے۔ وعدے پورے کرنا خُدا کی فطرتِ ثانیہ ہے، اس لیے فوراً اُس کے تخت کے پاس جائیں اور کہیں ، ’’جیسا تُو نے فرمایا ہے ویسا ہی کر‘‘۔

زبور 109: 5

’’لیکن مَیں تو بس دُعا کرتا ہوں۔‘‘
داؤدؔ کی نیک نامی کے خلاف جھوٹی زبانیں سرگرم تھیں، مگر اُس نے اپنا دفاع نہ کیا۔ اُس نے معاملہ سب سے بڑی عدالتِ عالیہ میں پیش کر دیا اور خود عظیم شہنشاہ کے حضور فریاد کی۔ نفرت بھرے الفاظ کے جواب کا سب سے محفوظ طریقہ دُعا ہے۔ زبور نویس نے سرد مہری کے ساتھ دُعا نہیں کی، بلکہ اُس نے اِس کے اندر اپنا پورا وجود اُنڈیل دیا۔ اُس نے اپنی ساری جان اور اپنے سارے دِل سے دُعا مانگی ، اپنی ہر رگ اور اپنے ہر پٹھے کو کھینچتے ہوئے، جیسے یعقوبؔ نے فرشتہ سے کُشتی کرتے وقت کِیا تھا۔ اِسی طرح، اور صرف اِسی طرح، ہم میں سے ہر ایک بھی فضل کے تخت تک کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح سایہ بے جان ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، اِسی طرح وہ دُعا جس میں انسان کی پوری ہستی حقیقی تڑپ اور شدید آرزو کے ساتھ شامل نہ ہو، بالکل بے اثر ہوتی ہے، کیونکہ اس میں وہ قوت نہیں ہوتی جو اسے مؤثر بناتی ہے۔ ایک قدیم الہٰیات دان کہتا ہے کہ ’’جوش کے ساتھ کی گئی دُعا آسمانی دروازوں پر نصب توپ کی طرح ہوتی ہے جس کی گرج سے بند دروازے یکلخت کھل جاتے ہیں۔‘‘ ہم میں سے اکثر ایمانداروں میں یہ عام کمزوری پائی جاتی ہے کہ ہمارا دھیان فوراً بٹ جاتا ہے۔ ہمارے خیالات ہمہ وقت اِدھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اپنے مطلوبہ مقصد کی طرف ہماری پیشقدمی بہت دھیمی پڑ جاتی ہے ۔ ہمارا ذہن پارے کی طرح ہے جو ایک جگہ ٹھہرتا نہیں بلکہ اِدھر اُدھر لڑھک جاتا ہے۔ یہ کتنی بڑی قباحت ہے۔ اِس سے ہمیں بہت نقصان پہنچتا ہے اور اِس سے بھی بڑھ کر یہ ہمارے خدا کی بے توقیری ہے۔ ہم ایک ایسے فریادی کے بارے میں کیا سوچیں گے جو کسی بادشاہ کے حضور پیشی کے دوران کسی ڈنڈی سے کھیلنے میں مگن ہو یا کوئی مکھی پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو؟اس آیت کے الفاظ میں ایک تسلسل اور ثابت قدمی کا تاثر پایا جاتا ہے۔ داؤدؔ نے ایک بار پُکار کر خاموشی اختیار نہیں کر لی تھی ، بلکہ اُس کی یہ التجا اُس وقت تک جاری رہی جب تک کہ برکت نازل نہ ہو گئی۔ دُعا ہمارا عارضی اور فرضی کام نہیں بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اٹوٹ انگ، ہماری عادت اور ہماری خدمت کی طرح ہونی چاہیے۔ جیسے فنکار اپنے نمونوں کے لیے اور شاعر اپنے ادبی مشاغل کے لیے خود کو وقف کر دیتے ہیں، ویسے ہی ہمیں اپنے آپ کو دُعا کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ہمیں دُعا میں اِس طرح مستغرق ہو جانا چاہیے جیسے یہ ہماری فطرتِ ثانیہ ہو، نیز بلا ناغہ دُعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا چاہیے۔اے خداوند، ہمیں ایسی دُعا کرنا سکھا کہ ہم تیرے حضور درخواست گزارنے میں دن بدن زیادہ سے زیادہ زورآور اور مؤثر ہوتے جائیں۔
17