1۔ کرنتھیوں 3: 23
’’ تُم مسیح کے ہو‘‘
تم مسیح کے ہو۔ تم بخشش کے اعتبار سے مسیح کے ہو ، کیونکہ باپ نے تمہیں بیٹے کو بخش دیا؛ تم اس کے ہو خُون کی قیمت کے اعتبار سے اُس کے ہو ، کیونکہ اُس نے تمہاری نجات کے لیے اپنا خُون بہا کر پوری قیمت ادا کی؛ تم مخصوصیت کے اعتبار سے اُس کے ہو ، کیونکہ تم نے اپنے آپ کو اس کے واسطے مخصوص کر دیا ہے؛ اور تم رشتے کے اعتبار سےاُس کے ہو ، کیونکہ تم اُس کے نام سے کہلاتے اور اُس کے بھائیوں میں شمار کیے گئے اور اُس کے ساتھ وارث بنائے گئے ہو۔ عملی طور پر دُنیا پر ظاہر کرو کہ تم یسوعؔ کے خادم ، اُس کے دوست اور اس کی دُلہن ہو۔ جب گناہ کی آزمائش وارد ہو تو اُس سے کہو کہ ’’مَیں اتنی سنگین بدی نہیں کر سکتا، کیونکہ میں مسیح کا ہوں‘‘۔ یہ ابدی ضابطے مسیح کے ہر حقیقی دوست کو گناہ کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ جب دولت کا انبار گناہ کے ذریعے جیتنے کے لئے آپ کے سامنے دھرا ہو تو کہو کہ مَیں مسیح کا ہوں اور اُسے ہاتھ تک نہ لگاؤ۔ کیا تم مشکلات اور خطروں میں گھرے ہوئے ہو؟ بُرے دن میں ثابت قدم رہو اور یہ یاد رکھو کہ تم مسیح کے ہو۔ کیا تم کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں دوسرے کاہلی سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کچھ نہیں کر رہے؟ تو اپنی پوری قوت کے ساتھ خدمت کے لیے اُٹھ کھڑے ہو ، اور جب ماتھے پر پسینہ آ جائے اور کاہلی کا خیال دل میں اُٹھے تو پُکار کر کہو کہ ’’نہیں، مَیں رُک نہیں سکتا، کیونکہ مَیں مسیح کا ہوں‘‘۔ اگر مجھے خون سے خریدا نہ گیا ہوتا تو م۔یں اِشکارؔ کی مانند دو بوجھوں کے درمیان دبکا بیٹھا رہتا، مگر مَیں مسیح کا ہوں اور کاہلی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ جب کیف و سرود کی موسیقی تمہیں بھٹکانے پر تُلی ہو تو کہو کہ ’’تیری موسیقی میرے دِل کو موہ نہیں سکتی، کیونکہ مَیں مسیح کا ہوں‘‘ ۔ جب خدا کی خدمت تمہیں پُکارے تو اپنا تن من دھن بلا سوچے سمجھے نچھاور کر دو، کیونکہ تم مسیح کے ہو۔ کبھی اپنے اقرار کی نفی نہ ہونے دو۔ تم اُن لوگوں کی مانند بنو جن کا چال چلن حقیقی مسیحی بلکہ مسیح جیسا ہو، جن کی گفتگو ناصری جیسی ہو، اور جن کا برتاؤ اور بات چیت آسمان کی خوشبو سے معطر ہو، تاکہ جو کوئی بھی تمہیں دیکھے وہ جان لے کہ تم نجات دہندہ کے ہو اور تمہارے اندر سے اُس کی محبت جھلکتی ہے اور وہ تُمہیں اُس کی پاکیزگی اور راستبازی سے پہچانیں۔ زمانۂ قدیم میں یہ کہنا کہ ’’مَیں روم کا (رومی) ہوں !‘‘ بڑی ساکھ اور عزت کی بات سمجھا جا تا تھا! آج یہ کہنا کہ ’’مَیں مسیح کا ہوں!‘‘ ہمارے لئے اُس سے کہیں بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہونی چاہئے۔
ایوب 36: 2
’’خُدا کی طرف سے مجھے کچھ اَور بھی کہنا ہے‘‘ ۔
ہمیں اپنی نیکی یا اپنے روحانی جوش کی تشہیر کے لیے عوامی پذیرائی اور شہرت کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی گناہ ہے کہ ہم ہمیشہ اُس نعمت کو چھپانے کی کوشش کریں جو خدا نے دوسروں کی بھلائی کے لیے ہمیں عطا کر رکھی ہے۔ مسیحی ایماندار کو وادی میں چھپا ہوا گاؤں نہیں بلکہ پہاڑ پر بسا ہُوا شہر بننا چاہیے، اور وہ پیمانے کے نیچے رکھی ہوئی شمع نہیں بلکہ چراغ دان پر رکھا ہُوا چراغ ہے جس کی روشنی سب تک پہنچتی ہے۔ خلوت پسندی اپنی جگہ عمدہ ہو سکتی ہے اور اپنے آپ کو چھپانا بلاشبہ ایک حد تک انکساری ہے، مگر اپنے اندر بسنے والے مسیح کو چھپانا کسی صورت درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور اُس سچائی کو روک رکھنا جو ہمارے لیے قیمتی ہے دوسروں کے حق میں ظلم اور خدا کے حضور جرم ہے۔ اگر آپ کا مزاج نازک اور طبیعت گوشہ نشین ہے تو خبردار رہیے کہ کہیں آپ اس جھجک کو حد سے زیادہ اِس قدر نہ بڑھا لیں، مبادا کلیسیا کے لیے بے فائدہ ہو جائیں۔ اُس کے نام میں جو آپ کے لیے شرمندہ نہ ہُوا ، اپنی طبیعت پر کچھ جبر کیجیے اور دوسروں کو وہ بات بتائیے جو مسیح نے آپ سے کہی ہے۔ اگر آپ بلند اور گونجتی آواز میں بات نہیں کر سکتے تو دھیمی اور نرم آواز ہی استعمال کیجیے۔ اگر منبر آپ کا مقام نہیں بن سکتا اور اگر مطبوعات آپ کے کلام کو پھیلانے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں تو بھی پطرسؔ اور یوحناؔ کی طرح کہیے کہ ’’سونا اور چاندی تو میرے پاس ہے نہیں، مگر جو کچھ میرے پاس ہے وہ تجھے دئیے دیتا ہوں‘‘۔ اگر پہاڑ پر وعظ کرنا ممکن نہیں تو سُوخار کے کنویں پر سامری عورت سے بات کیجیے، اگر ہیکل میں نہیں تو گھر میں یسوع کی منادی کیجیے، اگر بازار میں نہیں تو کھیت میں، اور اگر بنی نوع انسان کے عالمگیر خاندان میں نہیں تو کم از کم اپنے ہی گھرا اور گھرانے کے درمیان اس کے نام کا ذکر کیجیے۔ اپنے باطن کے چھپے ہوئے چشموں سے گواہی کی میٹھی نہریں بہنے دیجئے جو ہر گزرنے والے کو سیراب کریں۔ اپنے توڑے کو مت چھپائیے بلکہ اس کے ساتھ لین دین کیجیے، تب آپ اپنے خداوند اور مالک کے لیے نفع بخش نوکر ثابت ہوں گے۔ خدا کے لیے بولنا خود ہمارے لیے تازگی کا باعث، مقدسین کے لیے تسلی، گنہگاروں کے لیے فائدہ مند اور نجات دہندہ کے لیے باعثِ عزت ہوگا۔ گونگے بچے والدین کے لیے باعثِ رنج ہوتے ہیں۔ اے خداوند، اپنے سب بچوں کی زبان کھول دے۔