پیر، 5 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

پیدائش 1: 4

’’اور خُدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے اور خُدا نے روشنی کو تاریکی سے جُدا کِیا‘‘۔
روشنی واقعی اچھی ہوتی ہے کیونکہ اِس کا حقیقی مصدر اچھائی کے سرچشمہ خُدا کا یہ حکم ہے کہ ’’روشنی ہو جا‘‘۔ روشنی سے فیض یاب ہونے والوں کو چاہئے کہ وہ اِس پر جتنے شکرگزار ہیں اُس سے کہیں بڑھ کر شکر گزار بنیں نیز اِس میں اور اِس کے وسیلہ سے خُدا کو مزید گہرے طور پر جانیں۔ سلیمانؔ کے مطابق طبعی روشنی بھی اچھی ہے مگر خوشخبری کی روشنی اِس سے کہیں زیادہ افضل ہے کیونکہ وہ ابدی باتوں کا آشکار کرتی اور ہماری غیر فانی فطرت کو جِلا بخشتی ہے۔ جب روح القدس ہمیں روحانی روشنی سے ہمکنار کرتا اور ہماری روحانی آنکھوں کو کھولتا ہے کہ ہم یسوعؔ مسیح کے رُوپ میں خُدا کے جلال کو دیکھ سکیں تو پھر ہمیں گناہ کے اصل رنگوں اور خود اپنی حقیقی حالت کو دیکھ پاتے ہیں۔ اِسی روشنی کی مدد سے ہم یہوواہ پاک خُدا کو اُس کے مکاشفے کی رُو سے ، اُس کے منصوبۂ رحم کو اُس کے بھید کی رُو سے ، اور آنے والی دُنیا کو اُس کے کلام کی رُو سے دیکھ سکتے ہیں۔ روحانی روشنی میں خُدا کے فضل کی بے شمار کرنیں اور اُس کے جلال کے طیفی رنگ پائے جاتے ہیں مگر خواہ وہ معرفت ہو ، خوشی، شادمانی یا زندگی، اِن سب کا الہٰی وصف اچھائی ہے۔ پس اگر یہ حاصل کردہ روشنی اچھی ہے، تو خُدا کے حقیقی و جوہری نُور کی تجلی کس قدر اچھی اور فروزاں ہو گی نیز وہ مقام کس قدر جلالی ہو گا جہاں ہم اُس کی ذات کے حقیقی نُور کو روبرو دیکھ سکیں گے۔ اے خُداوند، چونکہ روشنی اتنی ا چھی ہے، اِس لئے ہمیں یہ روشنی اَور دے۔ ہمارے دِلوں کو اپنے حقیقی نُور سے منور کر دے۔ جونہی دُنیا میں کوئی اچھائی ظاہر ہوتی ہے تو عین اُسی لمحے امتیاز اور جُدائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ روشنی اور تاریکی میں کوئی میل جول نہیں کیونکہ اِن دونوں کے بیچ میں خُدا نے خُود یہ تفریق رکھی ہے ، اِس لئے ہمیں اِنہیں گڈ مڈ اور خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ نُور کے فرزندوں کو تاریکی کےکاموں، عقیدوں یا مغالطوں سے کوئی میل جول نہیں رکھنا چاہئے۔ دِن کے فرزندوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خداوند کے کام میں مستعدی، راستی اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں سے تاریکی کے سارے کاموں کو اُن کے لئے چھوڑ دیں جو ہمیشہ تاریکی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہماری کلیسیاؤں کو بھی چاہئے کہ وہ تربیت کے ذریعے روشنی کو تاریکی سے جُدا کریں اور ہمیں خُود بھی دُنیا سے واضح علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگی میں بھی یہی کام کرنا چاہئے۔ عدل میں، عمل میں، سننے میں، تعلیم میں، شراکت داری اور ایسے تمام معاملات میں ہمیں سچائی اور بطلان کے درمیان امتیاز کرتے ہوئے اُسی عظیم فرق کو برقرار رکھنا چاہئے جسے خُدا نے ابتدائے آفرینش سے ایک مسلمہ اصول کے طور پر قائم کر رکھا ہے۔ اے خُداوند یسوعؔ، آج کے پُورے دِن میں تُو ہی ہمارا نُور ہو، کیونکہ تیرا نُور ہی آدمیوں کا نُور ہے۔

پیدائش 1: 4

’’اور خُدا نے دیکھا کہ روشنی۔۔۔‘‘
آج صبح ہم نے روشنی کے اچھا ہونے اور خُدا کی طرف سے اُس کے تاریکی سےجُدا کئے جانے پر غور کیا تھا۔ اب ہم اُس خاص توجہ پر غور کریں گے جس کے تحت خُدا نے اُس روشنی کو دیکھا تھا۔ ’’خُدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے‘‘ یعنی اُس نے اُسے ایک خاص لگاؤ ، خُوشی اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور کہا کہ روشنی ’’اچھی‘‘ ہے۔ عزیز قاری، اگر خُدا نے آپ کو بھی یہ روشنی عطا کی ہے تو وہ اِس روشنی کو ایک خاص دلچسپی کی نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف اِس لئے اُسے عزیز رکھتا ہے کہ وہ اُس کے اپنے ہاتھوں کی کاریگری ہے بلکہ اِس لئے بھی کہ وہ اُس کی ذات سے مشابہ ہے کیونکہ ’’خُدا نُور ہے‘‘۔ ایماندار کے لئے یہ جاننا بہت تسلی کی بات ہے کہ خُدا اپنے فضل کے اُس کام کو بڑی شفقت کی نگاہ سے دیکھتا اور پرکھتا ہے جسے اُس نے خُود اُس کی زندگی میں جاری کر رکھا ہے۔ وہ اُس خزانے سے کبھی غافل نہیں ہوتا جو اُس نے ہمارے مٹی کے برتنوں میں رکھا ہے۔ بسا اوقات ہم خُود اُس روشنی کو دیکھ نہیں پاتے، مگر یہ روشنی ہمیشہ خُدا کی نگاہ میں رہتی ہے اور اُس کا دیکھنا ہمارے دیکھنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میرے لئے یہ بات اِس لئے بھی زیادہ اطمینان بخش ہے کہ اُس نے جب اِسی روشنی سے مجھے دیکھا تو اُسے میری بے گناہی نظر آئی ، بہ نسبت اِس کے کہ مَیں خُود یہ گمان کروں کہ مَیں نے اُسے دیکھ لیا ہے۔ میرے لئے یہ جاننا نہایت باعثِ راحت ہے کہ مَیں خُدا کی اُمت میں سے ہوں، لیکن خواہ مجھے یہ شعور حاصل ہو یا نہ ہو، اگر خُدا مجھے اِسی نگاہ سےدیکھتا ہے تو پھر مَیں محفوظ ہوں۔ یہ ایک بنیادی بات ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ’’خُداوند اپنوں کو پہچانتا ہے‘‘۔ ممکن ہے کہ آپ ہنوز اپنے پیدائشی گناہ کے باعث کراہتے اور اپنی باطنی تاریکی پر ماتم کناں ہیں، پھر بھی خُداوند آپ کے دِل میں ’’روشنی‘‘ دیکھتا ہے بلکہ ویسے جیسے اُس نے روزِ اول کو تاریکی کے بیچ میں روشنی کی پہلی کرن کو دیکھا تھا۔ اِس روشنی کو اُسی نے خُود آپ کی زندگی میں جاگزین کیا ہے اور آپ کی زندگی میں بسنے والے سارے تاریکی کے کام مل کر بھی اُس روشنی کو مہربان خُدا کی نظروں سے چھپا نہیں سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ مایوسی کے گہرے گڑھے میں گِر چکے ہوں، حتیٰ کہ نااُمیدی کی آخری حدوں کوچھو رہےہوں، لیکن اگر پھر بھی آپ کی زندگی میں مسیح کے لئے موہوم سی تمنا بھی جاگ رہی ہے اور آپ اُس کے کامل کفارے کی برکت کے وسیلہ سے خُدا کے فضل کو حاصل کرنے کے آرزومند ہیں تو خُدا اِس ٹمٹماتی ’’روشنی‘‘ کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ اِس روشنی کو صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اُسے آپ کے اندر محفوظ بھی رکھتا ہے۔ یہ خیال اُن کے لئے نہایت بیش قیمت اور اُمید افزا ہے جو اپنی سخت تگ و دو اور مسلسل کوششوں کے باوجود اپنی کمزوری اور بے بسی کو شدت سے محسو س کرتے ہیں۔ روشنی کی وہ موہوم سی کرن جسے خُدا اپنے فضلِ بے پایاں سے آپ کی زندگی کے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہے، ایک دِن دوپہر کے کامل اُجالے اور اپنے جلال کی پوری تابانی کے ساتھ ظاہر کرے گا۔ یہی باطنی روشنی ابدیت کے روزِ اول کے طلوعِ سحر کی مانند ہے۔
47