زبور 138: 5
’’وہ خداوند کی راہوں کاگیت گائیں گے۔‘‘
مسیحی لوگ خداوند کی راہوں کا گیت تب گانا شروع کرتے ہیں جب وہ پہلی بار صلیب کے قدموں میں آکر اپنا بوجھ اتارتے ہیں۔ یہاں تک کہ فرشتوں کے گیت بھی اتنے شیریں معلوم نہیں ہوتے جتنا کہ خدا کے معاف کیے گئے فرزند کی روح کی گہرائیوں سے نکلنے والا خوشی کا پہلا گیت شیریں ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جان بنین ؔنے اِس منظر نامے کو کیسے بیان کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جب بیچارے مسافر کا بوجھ صلیب کے پاس گر گیا، تو اس نے خوشی کے مارے تین بار بڑی اچھل کود کی اور یہ گاتے ہوئے اپنی راہ لی،
’’مبارک صلیب! مبارک قبر! پر اس سے بھی زیادہ مبارک ہے وہ
جو ہستی وہاں میری خاطر ہوئی، رسوا ذلیل شرمندہ اور خوار!‘‘
اے ایماندار، کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تیری بیڑیاں گر گئی تھیں؟ کیا تجھے وہ جگہ یاد ہے جہاں یسوعؔ تجھ سے ملا اور اُس نے کہا، ’’مَیں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی ہے۔ مَیں نے تیری خطاؤں کو بادل کی طرح اور تیرے گناہوں کو کالی گھٹا کی طرح مٹا ڈالا ہے۔ وہ اب کبھی تیرے خلاف یاد نہ کیے جائیں گے۔‘‘ آہ! وہ کتنا شیریں وقت ہوتا ہے جب یسوعؔ گناہ کا دُکھ دور کر دیتا ہے۔ جب خداوند نے پہلی بار میرے گناہ معاف کیے، تو میں اتنا خوش تھا کہ میں خود کو ناچنے سے بمشکل روک پایا ۔ اس کے گھر سے ، جہاں مَیں نے آزادی پائی تھی، اپنے گھر واپسی کے راستے پر ، میں نے سوچا کہ مجھے گلی کے پتھروں کو اپنی نجات کی گواہی ضرور سنانی چاہیے۔ میری روح خوشی سے اس قدر لبریز تھی کہ میں آسمان سے گرنے والے برف کے ہر گالے کو یسوعؔ کی اس حیرت انگیز محبت کے بارے میں بتانا چاہتا تھا جس نے مجھ جیسے بڑے گنہگار کے گناہوں کو دھو ڈالا تھا۔ لیکن یہ صرف مسیحی زندگی کا آغاز نہیں ہے جہاں ایمانداروں کے پاس گیت گانے کی کوئی خاص وجہ ہوتی ہے؛ وہ جب تک زندہ رہتے ہیں، اُنہیں خداوند کی راہوں میں گیت گانے کے اسباب جا بجا ملتے رہتے ہیں، اور اس کی مسلسل شفقت کا تجربہ انہیں یہ کہنے پر مجبور کرتا رہتا ہے کہ، ’’میں ہر وقت خداوند کو مبارک کہوں گا۔ اس کی ستایش ہمیشہ میری زبان پر رہے گی ۔‘‘ اے قاری ، دیکھنا کہ آج تُو خداوند کی ستایش کرنے اور اُسے مبارک کہنے سے ایک لمحہ بھی غافل نہ رہے ۔
’’جب تک ہم اس زمیں پر چلتے رہیں گے
نئے نئے گیتوں سے حمد کرتے رہیں گے ‘‘
2۔ سموئیل 1: 26
’’تیری محبت میرے لئے عجیب تھی۔‘‘
آئیے، عزیز قاری! ہم میں سے ہر ایک یونتنؔ کی نہیں بلکہ یسوعؔ کی عجیب محبت کی گواہی دے۔ ہم وہ باتیں بیان نہیں کریں گے جو ہمیں بتائی گئی ہیں، بلکہ ان چیزوں کا ذکر کریں گے جن کا ہم نے مسیح کی محبت میں خود تجربہ کیا اور جنہیں خود چھوا اور چکھاہے۔اے یسوعؔ ، تیری محبت میرے لیے اس وقت عجیب تھی جب میں تجھ سے دور ، برگشتہ، گمراہ اور انجان ہو کر اپنی جسمانی و ذہنی خواہشات کو پورا کر رہا تھا۔ تیری محبت نے مجھے اس گناہ سے روکا جو موت تک پہنچاتا ہے، اور مجھے خود کو ہلاک کرنے سے بچائے رکھا۔ تیری محبت نے اس وقت بھی کلہاڑے کو روکے رکھا جب عدل نے کہا، ’’اسے کاٹ ڈالو! یہ زمین کو کیوں گھیرے رہے؟‘‘ تیری محبت مجھے بیابان میں لے آئی، وہاں مجھے برہنہ کیا، اور مجھے میرے گناہ کے جرم اور بدکاری کے بوجھ کا احساس دلایا۔ جب میں سخت ہراساں تھا، تو تیری محبت نے یہ تسلی بھرے الفاظ مجھ سے کہے،’’میرے پاس آ، اور میں تجھے آرام دوں گا۔‘‘آہ! تیری محبت کتنی بے مثال تھی جب ایک ہی لمحے میں تو نے میرے گناہوں کو دھو ڈالا؛ اور میری اس ناپاک روح کو، جو میری موروثی اور پیدائشی گناہ کے سبب سے قرمزی اور میری خطاؤں کی گرد سے سیاہ تھی، تُو نے برف کی مانند سفید اور اُجلی اون کی طرح پاک کر دیا۔ تو نے میرے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے مجھے شخصی طور پر اپنی محبت کا ثبوت دیا جب کہا کہ ،’’میں تیرا ہوں اور تُو میرا ہے۔‘‘ وہ لہجہ کتنا مہربان اور شیریں تھا جب تُو نے فرمایا، ’’باپ بھی تُجھ سے محبت رکھتا ہے۔‘‘ اور وہ لمحات کتنے پرکیف اور مسحور کن تھے جب تُو نے مجھ پر ’’روح کی محبت‘‘ کو ظاہر کیا۔
میری روح تیری الہٰی رفاقت کے اُن خلوت خانوں کو کبھی نہیں بھولے گی جہاں تُو نے اپنی ذات کو مجھ پر آشکار کیا۔ کیا موسیٰؔ کے پاس چٹان کا وہ شگاف تھا جہاں اس نے اپنے خدا کی جھلک دیکھی تھی؟ ہمارے پاس بھی چٹان کے وہ شگاف (زخم) موجود ہیں جہاں ہم نے مسیح کی ذات میں الوہیت کے مکمل جلال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ کیا داؤدؔ کو جنگلی بکریوں کے راستے، یردن کی سرزمین اور حرمونیوں کے پہاڑ یاد تھے؟ ہمیں بھی وہ جگہیں عزیز ہیں جو برکت میں اُن کے برابر بلکہ اُن سے کئی گُنا بڑھ کر ہیں۔اے پیارے یسوعؔ! اس مہینے کے آغاز پر ہمیں اپنی اِس حیرت انگیز محبت کا ایک تازہ گھونٹ عطا فرما۔ آمین!