بدھ، 28 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

کلسیوں 1: 28

’’مسیح میں کامل‘‘۔
اے ایماندار! کیا تُو اپنی روح میں یہ محسوس نہیں کرتا کہ کمال تجھ میں نہیں ہے؟ کیا ہر دن تجھے یہ نہیں سکھاتا کہ تیری آنکھ سے گرنے والا ہر آنسو تیرے ’’ادھورے پن ‘‘ کا ماتم کرتا اور تیرے لبوں سے نکلنے والا ہر سخت لفظ تیری ’’خامی‘‘ کا پتہ دیتا ہے؟ تُو نے اتنی بار اپنے دلِ ناتواں کا حال دیکھا ہے کہ تُو اپنی ذات میں کسی کمال کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا، لیکن اِس افسوسناک احساس کے درمیان تیرے لیے تسلی کی بات یہ ہے کہ تُو ’’مسیح میں کامل‘‘ ہے یعنی مسیح میں ہو کر تُو خدا کی نظر میں’’کامل ‘‘ ہے اور ابھی اسی وقت ’’عزیز میں مقبول‘‘ ہے۔ تاہم ایک دوسرا کمال ابھی حاصل ہونا باقی ہے جس کا وعدہ سب ایمانداروں سے کیا گیا ہے اور یہ وعدہ کتنا پُر مسرت ہے یعنی اُس وقت کا انتظار کرنا جب گناہ کا ہر داغ ایماندار کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا اور اسے تخت کے سامنے بے عیب، بے داغ، بے جھری اور کامل چیز کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اُس وقت مسیح کی کلیسیا اتنی پاک ہوگی کہ علیمِ کُل یعنی خُدا کی آنکھ بھی اُس میں کوئی نقص یا دھبہ نہ پائے گی یعنی وہ ایسی مقدس اور شاندار ہوگی کہ اُس کے بارے میں شاعر نے کیا ہی سچ کہا کہ ،
’’ مسیحا کی خلعت پہن کر میں اب تو
قدوس جیسا بن گیا ہو بہو‘‘
تب ہی ہم اِس جامع مگر مختصر جملے کی خوشی کا ذائقہ چکھیں اور محسوس کریں گے کہ ’’مسیح میں کامل ‘‘ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے ۔ تب ہی ہم یسوعؔ کی نجات کی بلندیوں اور گہرائیوں کو پوری طرح سمجھ پائیں گے۔ کیا اِس خیال سے تیرا دل خوشی سے بلیوں نہیں اچھلتا؟ جتنا تُو آج سیاہ ہے، ایک دن اتنا ہی سفید ہوگا اور جتنا تُو آج ناپاک ہے، ایک دن اتنا ہی صاف ہوگا۔ یہ کیسی حیرت انگیز نجات ہے کہ مسیح ایک پاپی کو لیتا ہے اور اسے فرشتے جیسا پاک بنا دیتا ہے؛ وہ ایک سیاہ اور بدصورت چیز کو اپنی قدرت کے وسیلہ سے ایسا نادر و بےمثال بنا دیتا ہے کہ وہ اُس کے جلال میں بے نظیر اور سرافیموں کی رفاقت کے لائق ہو جائے۔ پس اے میری روح! ثابت قدم رہ اور مسیح میں کمال کی اِس بابرکت سچائی کی ستائش کر۔

لوقا 2: 20

’’اور چرواہے جیسا اُن سےکہا گیا تھا ویسا ہی سب کچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجید اور حمد کرتے ہوئے لوٹ گئے۔‘‘
اُن کی حمد کا موضوع کیا تھا؟ اُنہوں نے اُس خبر کے لیے خدا کی تمجید کی جو اُنہوں نے ابھی ابھی سُنی تھی یعنی وہ بڑی خوشی کی بشارت کہ اُن کے واسطے ایک منجی پیدا ہوا ہے؛ آؤ ہم بھی اُن کی پیروی کریں اور اِس بات پر شکرگزاری کا گیت گائیں کیونکہ ہم بھی یسوعؔ اور اُس کی نجات کے بارے میں سُن چکے ہیں ۔ اُنہوں نے جو کچھ دیکھا اُس کے لئے خُدا کی حمد کی۔ اور سب سے شیریں موسیقی وہی ہے جو ہمارے شخصی تجربے پر مبنی ہو ، یعنی جو کچھ ہم نے اپنے اندر محسوس کیا اور جسے ہم نے اپنا لیا ہے جیسے زبور نویس کہتا ہے کہ ’’مَیں وہی مضامین سُناؤں گا جو مَیں نے بادشاہ کے حق میں قلمبند کئے ہیں‘‘۔ یسوعؔ کے بارے میں صرف سننا کافی نہیں کیونکہ محض سننے سے بربط کے تار تو چھیڑے جا سکتے ہیں مگر پوری راگنی صرف زندہ ایمان کی انگلیاں ہی پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے اگر تُو نے ایمان کی اُس بصیرت سے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے یسوعؔ کو دیکھا ہے تو بربط کے تاروں پر مکڑی کے جالے نہ لگنے دے بلکہ اُس بڑے فضل کی حمد کے لیے اپنے ستار اور بربط کو بیدار کر۔ ایک نکتہ جس کے لیے اُنہوں نے خدا کی حمد کی وہ اُن باتوں کے درمیان مطابقت تھی جو اُنہوں نے سنی اور دیکھی تھیں۔ اے ایماندار، آخری جملے پر غور کر ’’جیسا اُن سے کہا گیا تھا‘‘۔ کیا تُو نے انجیل کو اپنے اندر بالکل ویسا ہی نہیں پایا جیسا بائبل نے کہا تھا کہ یہ ہوگی؟ یسوعؔ نے کہا تھا کہ وہ تجھے آرام دے گا اور کیا تُو نے اس میں شیریں ترین اطمینان نہیں پایا؟ اُس نے کہا تھا کہ تجھے اُس پر ایمان لانے سے خوشی، تسلی اور زندگی ملے گی ، کیا تُو نے یہ سب کچھ حاصل نہیں کیا؟ کیا اُس کی راہیں زندگی کی راہیں اور اُس کے سب رستے سلامتی کے نہیں ہیں؟ یقیناً تُو بھی سبا کی ملکہ کی طرح کہہ سکتا ہے کہ ’’مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا‘‘ کیونکہ میں نے مسیح کو اُس سے کہیں زیادہ شیریں پایا ہے جتنا اُس کے خادموں نے بیان کِیا تھا۔ مَیں نے اُس کی تصویر کو ویسا ہی دیکھا جیسا اُنہوں نے پیش کیا تھا لیکن وہ اُس کی حقیقی ذات کے مقابلے میں محض ایک ادھورا نقش تھی کیونکہ بادشاہ اپنے حُسن و جمال اور جلال میں تمام تصوراتی خوبصورتی سے بڑھ کر ہے؛ یقیناً جو کچھ ہم نے ’’دیکھا‘‘ ہے وہ اُن باتوں کا عشر عشیر بھی نہیں جو ہم نے آج تک ’’سُنی‘‘ ہیں۔ پس آ ، ہم اِس نجات دہندہ کے لیے جو اِتنا قیمتی اور صاحبِ جلال ہے ، خدا کی تمجید اور حمد کریں۔
12