پیدائش 4: 2
’’ ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہاتھا۔‘‘
ایک چرواہے کے طور پر ہابلؔ نے اپنے کام کو خدا کے جلال کے لیے مخصوص کیا اور اپنی قربان گاہ پر خون کی قربانی گذرانی جس پر خداوند خُدا نے ہابل کو اور اُس کے ہدیہ کو قبول فرمایا۔ ہمارے خداوند کا یہ ابتدائی نقش بے حد واضح اور نمایاں ہے۔ صبحِ صادق کے وقت مشرق میں نمودار ہونے والی روشنی کی پہلی کرن ، سب کچھ تو ظاہر نہیں کر دیتی البتہ یہ بڑی حقیقت ضرور عیاں ہو جاتی ہے کہ سورج طلوع ہونے والا ہے۔ جب ہم ہابلؔ کو دیکھتے ہیں جو ایک چرواہا اور ایک کاہن بھی ہے کیونکہ اُس نے خدا کے حضور راحت انگیز خوشبو کی قربانی پیش کی تو اِس میں ہمیں اپنے خداوند یسوعؔ کی جھلک دکھائی دیتی ہے جو اپنے آسمانی باپ کے حضور ایک ایسی قربانی گذرانتا ہے جسے یہوواہ خُدا ہمیشہ منظور فرماتا ہے۔ہابلؔ سے اُس کے بھائی نے بلاوجہ عداوت رکھی اور یہی عداوت ہمارے منجی کے ساتھ بھی رکھی گئی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اِس نفسانی اور جسمانی انسان نے خُدا کے اُس منظورِ نظر سے بھی عداوت رکھی جس میں فضل کا روح پایا جاتا تھا اور اُس وقت تک چین کی سانس نہ لی جب تک کہ اُس کا خون نہ بہا یا گیا۔ ہابلؔ نے اپنی جان دے کر گویا اپنی قربان گاہ اور قربانی کو اپنے لہو سے بھی سینچ دیا اور یوں وہ خداوند یسوعؔ مسیح کا مثیل ٹھہرا جسے انسان کی عداوت کے باعث اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ خداوند کے حضور بطور کاہن اپنی خدمت انجام دے رہا تھا۔ ’’اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔ ‘‘ آئیے ہم خداوند پر گریہ کریں جسے ہم نے بنی نوعِ انسان کی عداوت کے ہاتھوں ایک پاک برّہ کی مانند ذبح ہوتے اور اپنی قربان گاہ کے سینگوں کو اپنے ہی مقدس خون سے آراستہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہابلؔ کا خون کچھ کہتا ہے۔ خُدا نے قائنؔ سے کہا، ’’ تیرے بھائی کا خون زمین سے مُجھ کو پکارتا ہے۔‘‘ لیکن یسوعؔ کے خون کی آواز زیادہ بلند اور مؤثر ہے مگر اُس کی آواز سے انتقام نہیں بلکہ رحم کی پُکار سنائی دیتی ہے۔ اپنے اچھے چرواہے کی قربان گاہ کے پاس کھڑا ہونا دُنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر بیش قیمت ہے کیونکہ ہم اُسے وہاں ذبح کئے ہوئے برّے کے ساتھ ساتھ لہولہان کاہن کے طور پر بھی دیکھتے ہیں اور پھر وہاں ہمیں اُس کے خون کی پُکار بھی سنائی دیتی ہے جو اُس کے سارے گلّے کے لئے صلح اور سلامتی کی پُکار ہے ۔ یہ پُکار یہودیوں اور غیر قوموں کے درمیان ملاپ کی پُکار ہے، یہ انسان اور اُس کے ناراض خالق کے مابین صلح کی بحالی کی پُکار ہے اور یہ اُن سب ایمانداروں کے لئے ابدی نجات کی پُکار ہے جنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو لئے ہیں۔ ہابلؔ اپنے زمانے کے لحاظ سے پہلا چرواہا ہے لیکن کلیسیا کے لئے ، جو مسیح کا گلّہ ہے، مسیح کا مقام برتر و بلند تر ہے۔ اے بھیڑوں کے عظیم چرواہے! ہم تیری چراگاہ کے لوگ تجھے اپنے پورے دِل سے مبارک کہتے ہیں کیونکہ تُو نے ہماری نجات کے واسطے قربان ہو کر اپنی محبت کو ہمارے واسطے سچا ثابت کیا ہے۔
زبور 119: 37
’’ میری آنکھوں کو بُطلان پر نظر کرنے سے باز رکھ اور مُجھے اپنی راہوں میں زِندہ کر۔‘‘
بُطلان کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ احمق کی باتیں اور حرکتیں، دنیا کی عیش و عشرت، ناچ رنگ، بدی کا ساز اور بدکار کا جام، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں انسان بُطلان جانتا ہے کیونکہ اُن کے ماتھے پر اُن کا اپنا اپنا نام اور عنوان درج ہوتا ہے۔ اِن سے کہیں زیادہ پرفریب باطل چیزیں وہ ہیں جو اتنی ہی بے حقیقت ہیں یعنی اس جہان کی فکریں اور دولت کا فریب۔ ایک شخص تجارت خانے میں بھی ویسا ہی لایعنی کام کر سکتا ہے جیسا کہ تماشا گاہ میں۔ اگر وہ اپنی زندگی دولت کے انبار لگانے کی تگ و دو میں گزار رہا ہے تو وہ اپنے ایام ایک بے حقیقت نمائش و آرائش کی خاطر بسر کر رہا ہے۔ جب تک ہم مسیح کی پیروی نہ کریں اور خدا کو اپنی زندگی کا اولین مقصد اور نصب العین نہ بنائیں، ہمارا فرق دنیا پرستوں سے صرف ظاہری اور محض دکھاواہوگا۔صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اپنی آج کی آیت کے دوسرے حصے کی دُعا کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ’’مجھے اپنی راہوں میں زندہ کر۔‘‘ زبور نویس اقرار کرتا ہے کہ وہ سست، بوجھل، افسردہ اور گویا مُردہ ہے۔ عزیز قاری، شاید آپ بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہوں۔ ہم روحانی طور پر اتنے کاہل ہیں کہ خداوند کے بغیر بہترین محرکات بھی ہمیں تازہ دم نہیں کر سکتے۔ کیا جہنم کی ہولناکی مجھے بیدار نہیں کرے گی؟ کیا مَیں گنہگاروں کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی چوکنا نہیں ہوں گا؟ کیا آسمان کا تصور مجھے خبردار نہیں کرے گا؟ کیا مَیں اُس اجر کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جو راستبازوں کا منتظر ہے اور اُس کا خیال کر کے بھی میرے دِل پر بدستور سردمہری چھائی رہےگی ؟ کیا موت کی یاد بھی مجھے جھنجھوڑ نہیں پائے گی؟ کیا مَیں مرنے اور اپنے خدا کے حضور کھڑے ہونے کے بارے میں سوچ کر بھی اپنے مالک کی خدمت میں سستی کا متحمل ہو سکتا ہوں؟ کیا مسیح کی محبت مجھے مجبور نہیں کرے گی؟ کیا مَیں اُس کے مقدس زخموں کے بارے میں سوچ کر اور اُس کی صلیب کے قدموں میں بیٹھ کر بھی جوش اور جذبے سے معمور نہیں ہوں گا؟دیکھنے سے تو ایسا ہی لگتاہے! محض غور و فکر ہمیں جوش نہیں دِلا سکتا بلکہ یہ کام بھی خدا ہی کو کرنا ہوگا۔ اِسی لیے یہ پکار ہمارے لئے ایک محرک ہے کہ ’’مجھے زندہ کر۔‘‘ زبور نویس دِل و جان سے یہ التجا کرتا ہے، اس کا بدن اور روح گویا پورا وجود اِس دعا میں مشغول ہے۔ بدن کہتا ہے ’’میری آنکھوں کو باز رکھ‘‘ اور روح پکارتی ہے ’’مجھے زندہ کر۔‘‘ یہ ہر روز کی بیداری کے لیے ایک نہایت معقول دُعا ہے۔ اے خداوند، آج کی رات میرے حق میں اِس دُعا کو سن لے۔