مکاشفہ 14: 1
’’پھر مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برّہ صیون کے پہاڑ پر کھڑا ہے۔‘‘
یوحناؔ رسول کو یہ خاص استحقاق حاصل ہُوا کہ وہ آسمان کے دروازوں کے اندر جھانک سکے، اور جو کچھ اُس نے دیکھا اُسے بیان کرتے ہوئے وہ اپنی بات کا کچھ اِس طرح آغاز کرتا ہے کہ ’’ مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برّہ ۔۔۔‘‘ اِس سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ آسمانی ماحول میں بغور دیکھنے کی سب سے بڑی چیز ’’خُدا کا برّہ ہے جو جہان کے گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘۔کسی اور چیز نے یوحناؔ کی توجہ اتنی اپنی جانب مبذول نہیں کرائی جتنی اُس الٰہی ذات نے، جس نے اپنا خُون دے کر ہمیں چھڑایا ہے۔ وہی جلال کو پہنچنے والی تمام رُوحوں اور پاک فرشتوں کے گیتوں کا مرکزی مضمون ہے۔اے مسیحی ، یہاں تیرے کے لیے خوشی ہی خوشی ہے، تُو نے نظر کی ہے خُدا کے ازلی و ابدی برّہ کو دیکھا ہے۔ اپنی پُر نم آنکھوں کے ساتھ تُو نے خدا کے برّہ کو دیکھا ہے جو تیرے سب گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ پس شادمان ہو۔ تھوڑی ہی دیر میں، جب تیری آنکھوں سے سب آنسو پونچھ دئیے جائیں گے، تب تُو اِسی برّہ کو اپنے پورے جاہ و جلال میں اپنے تخت پر متمکن دیکھے گا۔ یسوعؔ کے ساتھ پیہم رفاقت تیرے دِل کے لئے آسودگی کا ذریعہ ہو گا اور یہ وہ خوشی ہے جو آسمان پر تیرے لئے سب بڑا اجر اور انعام ہے۔ تُو ابدالآباد اُس کے حقیقی دیدار سے لطف اندوز ہوگا ، اور ہمیشہ اُس کے ساتھ سکونت کرے گا۔
’’مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برّہ۔۔۔‘‘ درحقیقت وہ برّہ ہی آسمان ہے۔ جیسے نیک ردر فورڈؔ نے خوب کہا ہے کہ ’’مسیح اور آسمان ایک ہی چیز ہیں۔ مسیح کے ساتھ ہونا ہی آسمان میں ہونا ہے، اور آسمان میں ہونا ہی مسیح کے ساتھ ہونا ہے‘‘۔ خُداوند کا وہ بندہ اپنے ایک بصیرت افروز خط میں ایک انتہائی شیریں انداز میں کچھ یوں رقمطراز ہے کہ ’’اے میرے خداوند یسوعؔ مسیح، اگر مجھے تیرے بغیر آسمان پر رہنا پڑتا تو وہ میرے لیے جہنم ہوتا، اور اگر مجھے دوزخ کے اندر بھی تیرا روبرو دیدار نصیب ہو جائے تو وہ میرے لئے آسمان بن جائے، کیونکہ آسمان کی ساری رونق فقط تیرے ہی دَم سے ہے اور مجھے آسمان پر صرف تُو چاہئے۔‘‘ اے مسیحی، کیا یہ سچ نہیں؟ کیا تیری اپنی جان بھی یہی نہیں کہتی؟
’’عالمِ بالاکے سب ساز مل کر بھی
آسمان کو ایسا نہیں بنا سکتے
اگر خدا اپنی سکونت ہٹا لے
یا اپنا چہرہ چھپا لے‘‘
اگر تجھے کوئی مبارک، کامل طور پر مبارک چیز درکار ہے تو وہ ہے ’’مسیح کے ساتھ ہونا‘‘۔
2۔ سموئیل 11: 2
’’اور شام کے وقت داؤدؔ اپنے پلنگ پر سے اُٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا۔‘‘
تب داؤدؔ نے بت سبعؔ کو دیکھا۔ ہم کبھی بھی آزمائش کی دسترس سے باہر نہیں ہوتے۔ گھر میں ہوں یا باہر، ہر جگہ ہمیں برائی کی کشش کا سامنا رہتا ہے۔ صبح اِسی خطرے کے ساتھ طلوع ہوتی ہے اور شام کی گھڑیاں بھی ہمیں اِسی خطرے سے دوچار پاتی ہیں۔ جنہیں خُدا محفوظ رکھے فقط وہی اِس سے محفوظ رہتے ہیں، مگر افسوس اُن پر جو دُنیا میں نکلتے ہیں، یا حتیٰ کہ اپنے ہی گھر میں خُدا کے ہتھیار باندھے بغیر چلنے کی جرأت کرتے ہیں۔ جو لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں وہی دوسروں کی نسبت زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ہماری بے جا خُود اعتمادی گناہ کی سلاح بردار ہے۔ داؤدؔکو خداوند کی جنگیں لڑنے میں مشغول ہونا چاہیے تھا، مگر وہ یروشلیم میں ٹھہرا رہا اور آرام و تن آسانی کا شکار بن گیا، کیونکہ وہ شام کے وقت اپنے بستر سے بیدار ہُوا۔ کاہلی اور عیش و عشرت شیطان کے شکاری ہیں جو اُسے وافر شکار فراہم کرتے ہیں۔ ٹھہرے ہوئے پانی میں مضر مخلوقات پھیل جاتی ہیں، اور نظر انداز کی گئی زمین جلد ہی جھاڑیوں اور اونٹ کٹاروں سے بھر جاتی ہے۔ کاش یسوعؔ کی محبت ہمیں سرگرم اور ہوشیار رہنے پر مجبور کرے۔ جب مَیں اسرائیل کے بادشاہ کو دِن کے اختتام پر سستی سے اپنے بستر سے نمودار ہوتے اور فوراً آزمائش میں گرتے دیکھتا ہُوں تو اِس سے مجھے یہ تنبیہ ملتی ہے کہ مَیں خبردار رہوں اور اپنے دل کے دروازے پر خُدا کا پہرہ لگاؤں۔ کیا ممکن ہے کہ بادشاہ خلو ت اور عبادت کی غرض سے اپنی چھت پر چڑھا ہو؟ اگر ایسا تھا تو یہ ہمارے لیے کتنی بڑی تنبیہ ہے کہ ہم کسی جگہ کو، خواہ کتنی ہی پوشیدہ کیوں نہ ہو، گناہ سے محفوظ نہ سمجھیں۔ جب ہمارے دِل بارود خانے کی مانند ہیں جہاں چنگاریاں ہی چنگاریاں ہر طرف بکھری پڑی ہیں، تو ہمیں ہر جگہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور پوری مستعدی کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک بھی شعلہ بھڑکنے نہ پائے۔ شیطان چھتوں پر بھی چڑھ سکتا ہے، کوٹھریوں میں بھی داخل ہو سکتا ہے، اور اگر ہم اس ناپاک دشمن کو کسی نہ کسی طرح باہر رکھنے میں بھی کامیاب ہو جائیں تو ہماری اپنی بگڑی ہوئی فطرت، اگر فضل مانع نہ ہوتو ، ہماری ہلاکت کے لیے کافی ہے۔ عزیز قاری!، شام کی آزمائشوں سے خبردار رہیں۔ خود کو محفوظ مت سمجھیں۔ سورج غروب ہو چکا ہے، مگر گُناہ جاگ رہا بلکہ بلکہ پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ جاگ رہا ہے۔ ہمیں صرف دن کے لیے نہیں بلکہ رات کے لیے بھی الہٰی محافظت کی ضرورت ہے۔ اے پاک روح، آج کی رات ہمیں ہر طرح کی بدی سے محفوظ رکھ۔ آمین!