جمعہ، 16 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یسعیاہ 41: 14

’’مَیں تیری مدد کروں گا، خُداوند فرماتا ہے۔‘‘
آج صبح ہم خداوند یسوعؔ کی آواز سنیں جو ہم میں سے ہر ایک سے کہہ رہا ہے، ’’مَیں تیری مدد کروں گا‘‘۔ یہ آواز میرے لیے، یعنی تیرے خُدا کے لیے، کوئی بڑی بات نہیں کہ مَیں تیری مدد کروں۔ ذرا غور کر کہ مَیں اب تک تیرے لیے کیا کچھ کر چکا ہوں۔ کیا میں آگے تیری مدد نہیں کروں گا؟ مَیں نے تجھے اپنے خون سے خریدا ہے۔ کیا میں تیری مدد نہیں کروں گا؟ مَیں نے تیری خاطر اپنی جان دی ہے ، اور جب مَیں نے اتنا بڑا کام کر دیا ہے تو کیا تیرا چھوٹا سا کام نہیں کروں گا؟ تیری مدد کرنا تو میرے لئے معمولی بات ہے جو مَیں ضرور کروں گا۔ دیکھ مَیں اِس سے کہیں بڑھ کر تیرے لئے کر چکا ہوں اور اب اُس سے بھی بڑھ کر کروں گا۔بنایِ عالم سے پیشتر مَیں نے تجھے چن لیا۔ مَیں نے تیرے ساتھ عہد باندھا۔ مَیں نے اپنے جاہ و جلال کو ایک طرف رکھا اور تیرے لیے انسان بن کر دُنیا میں آ گیا۔ تیرے لیے مَیں نے اپنی جان تک نچھاور کر دی۔ اور اگر مَیں نے یہ سب کچھ کِیا ہے تو یقیناً اب بھی تیری مدد کروں گا۔ تیری مدد کرتے ہوئے، دراصل مَیں تجھے وہی کچھ دے رہا ہوں جو میں نے پہلے ہی تیرے لیے خرید رکھا ہے۔ اگر تجھے ہزار گنا زیادہ مدد کی بھی ضرورت ہوتی تو مَیں وہ بھی تجھے دے دیتا۔ جو کچھ تو مانگتا ہے وہ اس کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے جو مَیں تجھے دینے کے لیے تیار ہوں۔ تیرے نزدیک تیری ضرورت بہت بڑی ہے ، مگر میرے نزدیک تیری ضرورت کچھ بھی نہیں۔ کیا مَیں تیری مدد کروں گا؟ ضرور، اِس لئے خوف نہ کر۔ اگر تیرے ذخیرہ خانے کے دروازے پر ایک ننھی سی چیونٹی مدد مانگنے آ جائے تو کیا ایک مٹھی اناج دینے سے تُو برباد ہو جائے گا؟ اور تُو بھی میرے لامتناہی ذخیرہ خانے پر ایک نہایت معمولی سا وجود ہے۔ مَیں ضرور تیری مدد کروں گا۔
اے میری جان، کیا یہ کافی نہیں؟ کیا تجھے خُدائے ثالوث و قادرِ مطلق کی طاقت سے بڑی قوت چاہئے؟ کیا تُو اپنے آسمانی باپ کی عطا کردہ حکمت سے زیادہ حکمت چاہتی ہے اور اُس محبت سے بڑھ کر کچھ چاہتی ہے جو اُس کے بیٹے میں ظاہر ہوئی، یا اِس سے زیادہ قوت جو تجھے روح القدس کی طرف سے عنایت ہوئی ہے؟اپنا خالی برتن یہاں لے آ! یقیناً یہ لامحدود کنواں اُسے بھر دے گا۔ جلدی کر، اپنی ساری ضرورتیں سمیٹ کر یہاں لے آ۔ اپنا خالی پن، اپنے دکھ، اپنی حاجتیں۔ دیکھ، خُدا کی یہ ندی تیرے لیے پوری طرح لبریز ہے۔ اس کے سوا تو اَور کیا چاہتی ہے؟اے میری جان! اِسی زور کے ساتھ آگے بڑھ۔ ابدی خُدا تیرا مددگار ہے۔
مت ڈر، میں تیرے ساتھ ہوں، ہراسان نہ ہو !
میں ہی تیرا خُدا ہوں، اور مَیں ضرور تیری مدد کروں گا۔

دانی ایل 9: 26

’’وہ ممسُوح قتل کِیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا۔‘‘
اُس ممسوح یعنی مسیح کا نام مبارک ہو ، کیونکہ اُس میں قتل کئے جانے لائق اپنی کوئی وجہ نہ تھی۔ موروثی گناہ نہ کوئی ذاتی گناہ جس نے اُسے آلودہ کیا ہو، اِس لیے موت کا اُس پر کوئی حق نہ تھا۔ کوئی انسان عدل کے ساتھ اُس کی جان نہیں لے سکتا تھا، کیونکہ اُس نے کسی پر کوئی ظلم کِیا تھا نہ ہی کوئی اسے زبردستی گرفتار کر سکتا تھا، تاوقتیکہ وہ خود اپنی جان دینے کے لیے رضا مند نہ ہوتا۔ مگر دیکھو، ایک گناہ کرتا ہے اور دوسرا اس کی سزا پاتا ہے۔ عدل ہم سے عاجز تھا، مگر اُس نے اپنی تسکین اِسی میں پائی۔ آنسوؤں کے دریا، قربانیوں کے انبار، بیلوں کے خون کے سمندر، اور لوبان کے ڈھیر بھی گناہ کو دُور کرنے کے لیے کافی نہ تھے، لیکن یسوعؔ ہمارے واسطے قتل کیا گیا، اور یوں غضبِ الہٰی کا سبب فوراً جاتا رہا ، کیونکہ گناہ کا زور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موقوف ہو گیا۔یہاں بڑی حکمت ظاہر ہوتی ہے کہ عوضی اور فدیے کا یقینی اور فوری طریقہ وضع کِیا گیا! یہاں اُس کی فروتنی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ممسوح یعنی مسیح ، وہ شہزادہ، کانٹوں کا تاج پہنے اور صلیب پر اپنی جان دے گا۔ یہاں محبت ظاہر ہوتی ہے کہ فدیہ دینے والے نے اپنے دشمنوں کے واسطے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔ لیکن یہ کافی نہیں کہ ہم بے گناہ کی جانب سے گنہگاروں کے واسطے خون بہانے کے منظر کی صرف لفظی تحسین کریں، بلکہ ہمیں اِس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اِس کفارے میں ہمارا حصہ بھی شامل رہے۔ مسیح کی موت کا خاص مقصد اُس کی کلیسیا کی نجات تھا۔ کیا آپ کا حصہ اور مقدر اُن لوگوں میں ہے جن کے لیے اس نے اپنی جان فدیہ میں دی؟ کیا خداوند یسوعؔ آپ کی نمائندگی میں کھڑا ہُوا ؟ کیا آپ اُس کے مار کھانے سے شفا پاتے ہیں؟ اگر ہم اُس کی قربانی میں اپنا حصہ نہ پائیں تو یہ نہایت ہولناک بات ہوگی، بلکہ ہمارے لیے تو بہتر ہوتا کہ ہم کبھی پیدا ہی نہ ہوتے۔یہ سوال جس قدر سنجیدہ ہے، اُسی قدر خوشی کا باعث بھی ہے کہ اُس کا جواب صاف اور بغیر کسی شک کے دیا جا سکتا ہے۔ جو کوئی اُس پر ایمان لاتا ہے، اس کے لیے خداوند یسوعؔ ابھی اور اِسی وقت نجات دہندہ ہے، اور اُن سب پر صلح کے خون کا چھڑکاؤ ہو چکا ہے۔ پس جو کوئی مسیح کی موت سے جاری ہونے والے فضل پر ایمان رکھتا ہے، وہ اُس کی ہر یاد گار خوشی سے منائے ، اور صدقِ دِل سے اُس کی شکرگزاری کرے کیونکہ اُسی کے جان دینے سے ہم راستباز اور مقدس ٹھہرتے ہیں۔
20