ہفتہ، 10 جنوری 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

2- تیمتھیس 4: 8

’’۔۔۔میرے واسطے راستبازی کا وہ تاج رکھا ہُوا ہے۔۔۔‘‘
اے متشکک، تُو اکثر یہ کہتا ہے کہ ’’مجھے اندیشہ ہے کہ مَیں کبھی آسمان پر جا نہیں سکوں گا۔‘‘ خُوف نہ کر! خُدا کے سب لوگ وہاں ضرور جائیں گے۔ مجھے ایک قریب المرگ آدمی کا یہ سادہ مگر نہایت پُر اثر قول بے حد پسند ہے جس نے کہا کہ ’’مجھے اپنے ابدی گھر جانے کا کوئی خوف نہیں، میں اپنا سب کچھ پہلے ہی وہاں بھیج چکا ہوں ۔ خُدا کی انگلی دروازے کی کنڈی پر میری منتظر ہے اور مَیں اُس میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوں‘‘۔ جب کسی نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ کو اپنی زمینی میراث سے محروم ہونے کا خوف نہیں؟‘‘ تو اس نے جواب دیا کہ ’’ہرگز نہیں، کیونکہ آسمان پر میرے لئے ایک ایسا جلالی تاج رکھا ہے جسے جبرائیل فرشتہ بھی نہیں پہن سکتا، وہ کسی اور کے سر پر جچ ہی نہیں سکتا، وہ صرف میرے لیے ہے۔ اور آسمان پر میرے لئے ایک ایسا تخت بھی رکھاہے جس پر پولسؔ رسول بھی نہیں بیٹھ سکتا، کیونکہ وہ میرے لیے تیار کیا گیا ہے اور فقط مجھے ہی ملے گا‘‘۔ اے مسیحی، یہ خیال تیرے لیے کس قدر خوشی کا باعث ہونا چاہیے کہ تیرا حصہ محفوظ ہے، کیونکہ ہمارا ابدی آرام باقی ہے۔ تیرے ذہن میں یہ سوال ضرور اُبھر سکتا ہے کہ کیا مَیں اسے کھو تو نہیں سکتا؟، مگر اِس کا جواب ہے کہ ہر گز نہیں، کیونکہ تیری آسمانی میراث یسوعؔ مسیح میں محفوظ ہے۔ اگر آپ بھی خُدا کے فرزند ہیں تو آپ اسے ہرگز نہیں کھوئیں گے، یہ آپ کا ابدی اجر اور بخرہ ہے اتنا ہی یقینی جیسے آپ پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہوں۔ اے ایماندارو، آؤ ہم نبو کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اُس اچھے ملک کنعان کو دیکھیں۔ کیا آپ موت کی اِس چھوٹی سی ندی کو دھوپ میں چمکتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے اور کیا آپ اس کے پار ابدی شہر کے میناروں کو نہیں پہچانتے؟ کیا آپ اُس آسمانی سرزمین اور اس کے مسرور باشندوں کو نہیں دیکھتے؟ یہ بات جان لیجیے کہ جس دِن آپ پرواز کر کے وہاں پہنچ جائیں گے تو اُن بہت سے گھروں میں سے ہر ایک پر یہی لکھا پائیں گے کہ یہ گھر فلاں شخص کے لیے محفوظ ہے، فقط اُسی کے لیےجسے خُدا کے ساتھ ابدالآباد رہنے کے لیے اُٹھا لیا جائے گا۔ اے متشکک ، اس خوبصورت میراث کو دیکھ، یہ تیرے ہی لئے ہے۔ اگر آپ بھی خُداوند یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں، اگر آپ گناہ سے سچی توبہ کر چکے ہیں، اگر آپ کو بھی نیا دِل عنایت کیا گیا ہے، تو آپ خُدا کے لوگوں میں شامل ہیں، اور آپ کے لیے ایک جگہ مقرر ہے، آپ کے لیے ایک تاج رکھا گیا ہے، اور آپ کے لیے ایک خاص مکان تیار ہے۔ کوئی دوسرا آپ کا اجر نہیں لے سکتا، وہ آسمان میں آپ کے لیے محفوظ ہے، اور آپ اسے ضرور حاصل کریں گے، کیونکہ جب سب برگزیدہ جمع کیے جائیں گے تو اُس ابدی جلال میں پھر کوئی تخت خالی نہیں رہے گا۔

ایوب 19: 26

’’مَیں اپنے اِس جسم میں سے خُدا کو دیکھو ں گا۔‘‘
ایوب کی اس پاکیزہ ، ایمانی اور جلالی اُمید پر غور کیجئے کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ میں مقدسین کو دیکھوں گا، اگرچہ اس میں بھی بے شمار اُمید پنہاں ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ میں خُدا کو دیکھوں گا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ میں موتیوں سے بنے پھاٹکوں کو ، یشب کی فصیلوں کو یا سونے کی سڑکوں کا نظارہ کروں گا، بلکہ اس کی کامل اُمید اور آرزو اسی ایک حقیقت میں ملفوف ہے کہ میں خُدا کو دیکھوں گا۔ یہی آسمانی اجر کا اصل خلاصہ ، لب لباب اور تمام ایمانداروں کی زندہ و جلالی اُمید ہے۔ اس وقت وہ ایمان کے وسیلہ سے عبادت و ریاضت ، دعا اور رفاقت میں خدا کو دیکھنے سے خوشی پاتے ہیں، مگر آسمان میں ان کے لیے ایک حقیقی اور روبرو دیدار منتظر ہے، اور یوں جب وہ اسے جیسا ہے ویسا دیکھیں گے تو پوری طرح اسی کے مشابہ بنا دیے جائیں گے۔ خدا کی مشابہت سے بڑھ کر اَور کیا تمنا ہو سکتی ہے، اور خدا کے دیدار سے افضل اَور کون سی خواہش کی جا سکتی ہے؟ بعض لوگ اس آیت کو یوں پڑھتے ہیں کہ ’’مَیں اپنے جسم میں خدا کو دیکھوں گا‘‘ ، اور وہ اِس میں مسیح کی طرف اشارہ پاتے ہیں جو ’’مجسم کلام ‘‘ ہے، اور اس میں وہ ابدی اور جلالی دیدار کی جھلک بھی دیکھتے ہیں۔ مگر تفسیر خواہ کچھ بھی ہو، یہ بات تو یقینی ہے کہ ابدیت میں مسیح ہی ہماری نظر کا واحد مرکز ہوگا، اور اس کے دیدار کے سوا ہمیں کسی اَور خوشی کی کوئی حاجت باقی نہ رہے گی۔ کوئی یہ مت سمجھے کہ یہ تو دیکھنے کے لئے ایک بہت ہی تنگ اور یک رُخی حلقہ ہوگا کیونکہ اگرچہ یہ نظارہ بھی اپنے اندر خوشیوں اور مسرتوں کا ایک جہاں سموئے ہوئے ہے، تو بھی اِس کی جہتیں اور طرفیں لامحدود ہیں۔ اِس سے مُراد خُدا کی جملہ صفات اور خصوصیات کا نظارہ ہے جس میں سے ہر ایک اپنی جگہ لامتناہی اور لامحدود ہے، اِس لیے اِس میں کبھی تھکن یا بوجھل پن کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔ اس کے کام، اس کی نعمتیں، ہم سے اس کی محبت، اور اس کی جلالی تدابیر و افعال، یہ سب ہمیشہ نئی اور ابدی حقیقتیں ہوں گی۔ بزرگ ایوبؔ اس دیدار کو ایک ذاتی اور انفرادی نعمت کے طور پر دیکھتا اور کہتا ہے کہ ’’جسے میری آنکھیں دیکھیں گی وہ کوئی دوسرا نہیں‘‘۔ آپ بھی آسمانی مسرت کو اپنے لیے حقیقت بنا کر سوچئے اور غور کیجیے کہ وہ لمحہ آپ کے لیے کیسا ہوگا، کیونکہ لکھا ہے کہ آپ کی آنکھیں بادشاہ کو اس کے حقیقی جمال میں دیکھیں گی۔ دنیا کی ہر روشنی دیکھتے دیکھتے مدھم ہو جاتی ہے، مگر یہاں ایسی روشنی ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوگی اور ایک ایسا جلال ہے جو کبھی ماند نہیں پڑے گا، کیونکہ وعدہ یہی ہے کہ ’’مَیں خدا کو دیکھوں گا‘‘۔
35