کاش میں بھی جوان ہو جاتا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 99
پسند: 0
کاش میں بھی جوان ہو جاتا
اور ترا ہم زبان ہو جاتا
۔۔۔
تُو اگر ہے بہانہِ بسیار
میں جوازِ بیان ہو جاتا
۔۔۔
ساغرِ مست ہٹ نہ جاتا اگر
مے کدہ سائبان ہو جاتا
۔۔۔
ایک بے وزن سی غزل سُن کر
تُو بھی شعلہ زبان ہو جاتا
۔۔۔
صحرا صحرا میں چھانتا اتنا
کارواں بے نشان ہو جاتا
۔۔۔
نرگسِ دید جو نہ ہوتی کور
چشمِ بینا جہان ہو جاتا
۔۔۔
لعلِ نایاب کھو نہ جاتا عصیؔم
وہ اگر مہربان ہو جاتا
واپس جائیں