تجدیدِ عہد
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 106
پسند: 0
خدا کا شکر کہ اک اور عہد نَو آیا
ایک اور مرتبہ بخشش کا وقت ضُو لایا
۔۔۔
پھر امن کا ابدی پیار کا ارادہ کریں
صلح کے ساتھ سفر زندگی کا وعدہ کریں
۔۔۔
کہیں سکوں نہیں ملتا اس زمانے میں
ہے اک فریب نظر دہر کے فسانے میں
۔۔۔
ہیں پاک داماں تو عزت نصیب ہوتی ہے
وگرنہ زندگی بھی زندگی کو روتی ہے
۔۔۔
چلیں تو ظلم کی راہوں سے دُور دُور چلیں
چراغِ راہِ وفا بن کے راستے پہ جلیں
۔۔۔
پڑوسیوں سے محبت شعار ہو جائے
ہر ایک اُجڑا گلستاں بہار ہو جائے
۔۔۔
چلو ادب کے قرینے نئے تلاش کریں
کثافتوں سے نہ دِل اپنے اب نراش کریں
واپس جائیں