ندائے صیدِ زبوں زار میں غزل کہہ دی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 162
پسند: 0
ندائے صیدِ زبوں زار میں غزل کہہ دی
غزالِ حسن کی سرکار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
ہجومِ شوق کا دریائے فکر و بحرِ خیال
کہ غرق دورہؑ منجدھار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
غزل شناس، غزل گو، غزل مزاجوں سے
عجیب حیرتِ انبار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
ہے جراؑت اور کسی میں تو آزمائے ہنر
خمارِ عشق کے اَطوار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
قلم قبیلے کے یارو مجھے معاف کرو
خمارِ شوخیؑ اِظہار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
چلی ہوا جو سرِ شام شہرِ خُوباں سے
سرورِ موجہؑ گلنار میں غزل کہہ دی
۔۔۔
عصیمؔ اہلِ نظر، اہلِ دل کہیں جو کہیں
کہ خار زارِ رہِ یار میں غزل کہہ دی
واپس جائیں