کہا تھا سننے نہ دینا مجھے کلامِ نقیب
ونسینٹ پیس عصیم
فردیات
مطالعات: 120
پسند: 0
کہا تھا سننے نہ دینا مجھے کلامِ نقیب
لو آ کے دیکھ لو پاگل سا ہو گیا ہوں میں
۔۔۔
درد کے چاند تری یاد کا ہیں سرمایہ
یہ چراغِ شبِ ہجراں ہیں بجھاؤں کیسے
۔۔۔
پیاسا تیرے خواب کرتے ہیں بہت
اب تو ہم آغوش کر لے ساقیا!
۔۔۔۔
موجِ طوفاں میں ترا عکس اُتارا ہوتا
ناخدا ہوتا نہ کوئی، نہ کنارا ہوتا
۔۔۔
شاخ کوئی جھکی جو آئے نظر
غم بس انجانے توڑ لاتا ہوں
واپس جائیں