کبھی بھی ہو نہ سکے مجھ سے خود حساب مرے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 89
پسند: 0
کبھی بھی ہو نہ سکے مجھ سے خود حساب مرے
حصارِ حکم نے چھینے ہیں آب و تاب مرے
۔۔۔
چِتا پہ آرزو کی راکھ راکھ ہوتے گئے
شکستہ دل کے مہکتے ہوئے گلاب مرے
۔۔۔
میں مانتا ہی گیا اہلِ دل نے جو بھی کہا
گھٹے ذرا بھی نہ بڑھتے رہے عذاب مرے
۔۔۔
جنونِ عشق نے کیا!، مبتلائے عشق کیا
فریبِ حسن نے پتھرائے خوب خواب مرے
۔۔۔
سکوتِ ہجر میں جاگا ہے تیرے درد کا چاند
شبِ ستم ہے کہ سب ٹوٹے اضطراب مرے
۔۔۔
ہے ماہتاب جو ٹھہرا اک آ کے دریا پر
ہیں موج موج پہ رقصاں سبھی حباب مرے
۔۔۔
عصیمؔ دردِ صلیبی کہیں نہ رُک جائے
کہ صحرا صحرا برستے رہیں سحاب مرے
واپس جائیں