ہائیکو
ونسینٹ پیس عصیم
گیت
مطالعات: 106
پسند: 0
پیچوں میں سیاہ زلفیں
مکھڑے پہ سویروں کے
دو شامیں ہیں جیسے ڈھلیں
۔۔۔
تیری چال ہے مستانی
مخمل کے غالیچے پر
چلے جیسے کوئی رانی
۔۔۔
ہم بیٹھے ہیں راہوں میں
تھک ہار کے گردش میں
آئے تری بانہوں میں
۔۔۔
آنکھیں ہیں کہ مے خانے
بھر بھر کے پلا ساقی
شیشے کے ہیں پیمانے
۔۔۔
تیرے نیناں ہیں متوالے
ذرا دیکھ اِدھر مُڑ کے
یہاں بیٹھے ہیں دِل والے
۔۔۔
بھُولے ہیں سرابوں میں
راتوں کو دبے پاؤں
آیا کوئی خوابوں میں
۔۔۔
گردش نے گھما ڈالا
ہرجائی کے وعدوں نے
سب کچھ ہے بھُلا ڈالا
۔۔۔
تُم اُجلا سویرا ہو
اب آ بھی چکو ساجن
کچھ دُور اندھیرا ہو
واپس جائیں