دل تو تارے بھی توڑ لاتا ہے
زہر میں قند بھی ملاتا ہے
خواہشوں کا بھی کیا حوالہ ہے
نہ اندھیرا ہے نہ اُجالا ہے
یاد کا مدھوا پلاتا ہے
زہر میں قند بھی ملاتا ہے
۔۔۔
روز اخبار صبح پڑھتا ہوں
صفحہ لیکن پلٹتے ڈرتا ہوں
وصل اور ہجر سر اٹھاتا ہے
زہر میں قند بھی ملاتا ہے
۔۔۔
سر ہے تسلیمِ خم پلکیں بند
جھوٹ بھی سچ کی کھائے سو گند
کوئی احسان جب اٹھاتا ہے
زہر میں قند بھی ملاتا ہے