تُو نے اے روحِ ازل دنیا میں کیا کیا دیکھا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 105
پسند: 0
تُو نے اے روحِ ازل دنیا میں کیا کیا دیکھا
ہر طرف گھور اندھیروں کو کشیدہ دیکھا
۔۔۔
انہی اندھیاروں میں ترتیب تھی کیا مٹی کی
خُمر اور خاک کا بکھرا سا نظارہ دیکھا
۔۔۔
تیری رنگینیٔ افکار نے پھر مٹی کو
اپنی تخلیق کی ہر شے سے ہے نیارا دیکھا
۔۔۔
دمِ تخلیق دیئے پیار کے روشن کر کے
خاک میں نور کا بہتا ہوا دھارا دیکھا
۔۔۔
زندگی خلق ہوئی بھر کے فنا کا بہروپ
تپتے صحراؤں میں گلشن کو سنوارا دیکھا
واپس جائیں