گھول دی کس نے فضا میں نغمگی
یک بیک جو جل ترنگ سے بج اٹھے
جھومتی گاتی تھی مستانہ ہوا
بس آج کے دن!
ہر طرف رس گھول دے
دِل کے ساکت سے سمندر میں
تلاطم سا اٹھے ۔۔۔ اور مطلع صاف ہو
وقت ظالم ہے کہ جو ٹھہر ہی سکتا نہیں
نہ ہی ٹھہرے گا کبھی
جانے کب تک یہ سماں،
یونہی چلتا جائے گا
ایک دن جو آئے گا ۔۔۔
کھو جائے گا!
پھر یہ ہو گا۔۔۔
پھر سے آئے گا نظر
یہ ایک دن ۔۔۔ اور
خاک اڑتی ہو گی اپنی ۔۔۔
خاک کی ان بے بصر ویرانیوں میں ۔۔۔
ایک دن