نیا آدم
ونسینٹ پیس عصیم
فردیات
مطالعات: 114
پسند: 0
میں کہ صدیوں سے جو ظلمات کی چکی میں پِسا
میں وہ ناسور ہوں مٹی کے جو سینے میں پلا
۔۔۔
میں کہ جو آگ کی بھٹی سے پگھل کر نکلا
میں نیا چاند ہوں جو گھور خلا سے نکلا
۔۔۔
نقرئی کرنوں سے دُنیا کو جلا بخشوں گا
تھام لو ہاتھ مرا، میں اک آدم ہوں نیا
واپس جائیں