وہ بات دل کی رہی دل میں جو بتا نہ سکے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 90
پسند: 0
وہ بات دل کی رہی دل میں جو بتا نہ سکے
کبھی بھی اپنی محبت ہم آزما نہ سکے
۔۔۔
وہ راز راز ہی کیا جو کھلے زمانے پر
وہ درد درد ہی کیا دل میں جو سما نہ سکے
۔۔۔
وہ بے نقاب سرِ بزم ناز تھے لیکن
نقابِ حسن ادب تھا کہ ہم اُٹھا نہ سکے
۔۔۔
نہ جانے تیرے شکستہ دلوں پہ کیا گزری
جو تیرے شہر سے نکلے پلٹ کے آ نہ سکے
۔۔۔
بکھر کے صورتِ شبنم کیا چمن سیراب
یہ اور بات کہ ہم ابر بن کے چھا نہ سکے
۔۔۔
اڑے گی خاک سرِ راہ آرزو اپنی
مسافتوں کا اگر بوجھ ہم اُٹھا نہ سکے
۔۔۔
جلا کے ہم سے اسیروں کی جھونپڑی کو عصیمؔ
وہ پھر چراغِ محبت کہیں جلا نہ سکے
واپس جائیں