سکوں نہ دو مجھے مجھ کو سکون راس نہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
سکوں نہ دو مجھے مجھ کو سکون راس نہیں
ہے ایک وحشتِ دل غم جو کوئی پاس نہیں
۔۔۔
غمِ حیات کی کثرت نہ گھیر لے جب تک
اک آہ بھرنے کی راحت کی بھی کچھ آس نہیں
۔۔۔
ہر ایک چارہ گری بے بسی میں ڈوبی ہے
دکھا دو چارہ گر ایسا جو خود اُداس نہیں
۔۔۔
نصیب میں جو ہوا تو پڑاؤ آئے گا
لکیر ہاتھ میں گرچہ کچھ ایسی خاص نہیں
۔۔۔
شبِ فراق میں بھی چاندنی ٹھہرتی ہے
اندھیر نگری سدا کی کوئی سپاس نہیں
واپس جائیں