کیا اثر ہو گا اب دعاؤں کا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 113
پسند: 0
کیا اثر ہو گا اب دعاؤں کا
جب بھروسہ نہیں وفاؤں کا
۔۔۔
ہاتھ پتھر ہوئے ہیں پوجا میں
عہد جھوٹا رہا خداؤں میں
۔۔۔
وقت آنکھیں چرا کے بھاگ گیا
جیسے مجرم تھا خود خطاؤں کا
۔۔۔
نیند ٹوٹے تو ٹوٹتا ہے بدن
ہو بھلا ٹوٹتی صداؤں کا
۔۔۔
رہ گئی ہے غزل بھی اب تنہا
ہے حصار اجنبی خلاؤں کا
۔۔۔
پیڑ بھی بے لباس ہونے لگے
جبر ٹوٹا ہے کیا خزاؤں کا
۔۔۔
بارشوں کی حسیں رُتوں میں بھی
سانس رکتا رہا ہواؤں کا
۔۔۔
ہے تڑپ میں سکونِ قلب عصیمؔ
زندگی نام دھوپ چھاؤں کا
واپس جائیں