سجدہؑ شوق ہے آئے ہیں صنم خانے تک
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
سجدہؑ شوق ہے آئے ہیں صنم خانے تک
ورنہ ہم رند فقط رند تھے مر جانے تک
۔۔۔
شوقِ دیدار مٹاتے یا سُناتے دل کی
ایک الجھن میں رہے اُن کے چلے جانے تک
۔۔۔
شدتِ سنگِ رقیباں میں کمی کی خاطر
آپ بھی ہاتھ بڑھا دیجئے دیوانے تک
۔۔۔
تشنہ لب پیاس کی شدت میں ہوئے ہیں بے کل
کوئی تو تھام لے آ کر ذرا پیمانے تک
۔۔۔
زخم بھر بھر کے کھلے درد بڑھاتے جاؤ
کریں گے اُف نہ تمہارے ستم اُٹھانے تک
۔۔۔
ہم چٹخ جاتے جو پتھر کے بنائے ہوتے
پھول بن بن کے بکھرتے رہے بُت خانے تک
۔۔۔
آس جب یاس کے آنگن میں اُتر آئے عصیمؔ
آستاں بنتے چلے جاتے ہیں ویرانے تک
واپس جائیں