پہلے کیا کم تھا جو اب تُم نے بھی تنہا کر دیا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
پہلے کیا کم تھا جو اب تُم نے بھی تنہا کر دیا
لمحہ بھر میں ہر حقیقت کو ہی سپنا کر دیا
۔۔۔
پھول، گلشن باغ، پتے سب بکھر جانے کے بعد
ایک نخلستاں بچا تھا وہ بھی صحرا کر دیا
۔۔۔
جس قدر باقی بچا تھا جسم و جاں کا یہ وجود
وقت کی گردش نے وہ بھی پارہ پارہ کر دیا
۔۔۔
آہ سوچ اپنی، نہ دل اپنا نہ دید اپنی رہی
حالِ خستہ جاں نے سب کچھ اجنبی سا کر دیا
۔۔۔
خود سے اپنا کیا پتہ پوچھوں کہ ہے خود سر کہاں
بے خودی نے ہوش کو ہی بے کنارہ کر دیا
۔۔۔
ہے کرن امید کی قائم ہے جس پر کُل وجود
تیرہ شب کو جس نے قدرت سے اُجالا کر دیا
۔۔۔
سوچ کا محور ہے کام عصیمؔ افکار کا
اک تری دھڑکن نے زخمِ دل کو گہرا کر دیا
واپس جائیں