قطرہ جو حلق میں اُتارا ہے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 120
پسند: 0
قطرہ جو حلق میں اُتارا ہے
اک سرور اس کا کا جُوں شرارا ہے
۔۔۔
ہو غمِ ہجر اور بھی افزوں
چاند جامِ اثر کا تارا ہے
۔۔۔
لب پہ مسکان دل میں آہ و بکا
یہ وفا اور جفا کا دھارا ہے
۔۔۔
کیوں سزائیں بچا کے رکھتے ہو
حصّہ دو مجھ کو جو سنوارا ہے
۔۔۔
شبنمی رات اور خاموشی
کون کس کا یہاں سہارا ہے
۔۔۔
حسن خنجر ہے جو جگر کاٹے
کیا قلم نے غضب اُبھارا ہے
۔۔۔
زندگی ہے عصیمؔ ایک اخبار
خوف کا جیسے استعارا ہے
واپس جائیں