کارواں میں جو شخص تنہا تھا
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 106
پسند: 0
کارواں میں جو شخص تنہا تھا
تھا وہی پیاسا غم کا مارا تھا
۔۔۔
لُٹ گیا زادِ راہ رہبر کا
پُر خطر ترے گھر کا رستا تھا
۔۔۔
شہر ہی تیرا چھوڑ دینا تھا
مَیں نے سنجیدگی سے سوچا تھا
۔۔۔
شہر سے اُس کی ایک چاہت تھی
وہ نہ تھا پھر بھی اپنا لگتا تھا
۔۔۔
اُس کی تعبیریں ڈھونڈنے نکلا
عاشقی میں جو خواب دیکھا تھا
۔۔۔
جانے والے کی یہ نشانی تھی
حلیہ قوسِ قزح جیسا تھا
۔۔۔
آج پژ مردہ دِل ہے گلشن کا
جس میں صبر و قرار ملتا تھا
۔۔۔
پیارا میرا کبھی نہیں سمجھا
ریت پر اُس نے پیر رکھا تھا
واپس جائیں