سنتے ہیں وہ تذکرے دیروں کے آج کل
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
سنتے ہیں وہ تذکرے دیروں کے آج کل
کہتے ہیں سُر بکھر گئے بھیروں کے آج کل
۔۔۔
جانے ہمارے شہر کے سائے کدھر گئے
جلنے لگے ہیں آبلے پیروں کے آج کل
۔۔۔
بلبل ادائے گُل کو کرے کس طرف تلاش
گلشن میں راج ہوتے ہیں بیروں کے آج کل
۔۔۔
کیسے تمہاری چشمِ کرم کا یقین ہو
تم کھیلتے ہو ہاتھ میں غیروں کے آج کل
۔۔۔
بزمِ عصیمؔ بھی نہ ہو مستانہ وار کیوں
گلشن میں چرچے خاص ہیں خیروں کے آج کل
واپس جائیں