ہو احتسابِ سوز دروں کچھ عجب نہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
ہو احتسابِ سوز دروں کچھ عجب نہیں
دل کا گداز دل کے سکوں کا سبب نہیں
۔۔۔
ہم مے کدے میں پھر سے چراغاں کریں نہ کیوں
اس شب گزیدہ شہر میں سوز و طرب نہیں
۔۔۔
اک سانولی سی شام کے آنچل کی آگ میں
دودِ چراغِ دل بھی فزوں آج شب نہیں
۔۔۔
مستی میں دل جلا کے وفا ڈھونڈنے چلے
تیرہ شبی میں اپنا جنوں بے سبب نہیں
۔۔۔
خواہش ہے ہر سکون کی وادی کو توڑ دیں
پر دل میں آندھیوں کے فسوں مضطرب نہیں
۔۔۔
دیتے ہیں ٹھنڈی چھاؤں سبھی پیڑ دھوپ میں
زردی زمین کی بھی مگر بے سبب نہیں
۔۔۔
ہم زخم ان کو دل کے دکھاتے رہے عصیمؔ
جن کے قریب آج بھی کوئی مطب نہیں
واپس جائیں