سسکتی درد کے سینے میں ہوک اُٹھتی ہے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
سسکتی درد کے سینے میں ہوک اُٹھتی ہے
لرزتے پتوں پہ شبنم کے راز اگلتی ہے
۔۔۔
اُلجھ گئے ہیں سبھی راستے فضاؤں کے
قدم قدم پہ محبت بھی سر پٹختی ہے
۔۔۔
اُمید بن کے یقین و گماں کی بستی میں
عجیب آس ہے جو آسروں پہ مرتی ہے
۔۔۔
حروفِ مصلحت ہی جب کریں زباں بندی
تمنا داستاں خود آپ اپنی سنتی ہے
۔۔۔
ہے ایک شور جو اندر سُنائی دیتا ہے
عصیمؔ ہر نفس اک گہما گہمی رہتی ہے
واپس جائیں