اب اتنی تاب نہیں جوشِ انقلاب نہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 112
پسند: 0
اب اتنی تاب نہیں جوشِ انقلاب نہیں
کہ اب تو چشم تمنا میں کوئی خواب نہیں
۔۔۔
کھلاڑیوں سے بھرا عالمِ وفا ہے بہت
پر اپنے بامِ فلک پر اب آفتاب نہیں
۔۔۔
نہ موج موج ہے مستی نہ لہر لہر شرار
اُٹھے حباب نہ جس پر وہ سطح آب نہیں
۔۔۔
ترنگ اُٹھاتی ہے سر لمحوں کے سکوت میں جب
دلائے یاد ندامت سے خالی باب نہیں
۔۔۔
وہ ایک تلخ سفر کی حسین یادوں میں
وہ ایک سہو خطا دیکھنے کی تاب نہیں
۔۔۔
اُجڑ گیا ہے گلستاں بہار لمحوں میں
نہ ڈھونڈو یار یہاں اب کوئی گلاب نہیں
۔۔۔
عصیمؔ وقت گیا جو گیا نہ لوٹے گا
کہ جامِ عمر میں اب وقت کی شراب نہیں
واپس جائیں