روز و شب شعر کہتے رہتے ہیں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 108
پسند: 0
روز و شب شعر کہتے رہتے ہیں
ہنستے رہتے ہیں روتے رہتے ہیں
۔۔۔
کھول دیتا ہوں کھڑکیاں دِل کی
تارے شب بھر اُترتے رہتے ہیں
۔۔۔
ہے پسِ چشم یاد کا دریا
اشک رُک رُک کے بہتے رہتے ہیں
۔۔۔
دل میں اِک آرزو مچلتی ہے
خواب پلکوں پہ ٹھہرے رہتے ہیں
۔۔۔
داستاں وہ نئی سناتے ہیں
کروٹیں ہم بدلتے رہتے ہیں
۔۔۔
کیا ہوئی درد کی وہ شام عصیمؔ
جس کی رہ اب بھی تکتے رہتے ہیں
واپس جائیں