دِل کی ویرانیوں میں رہتا ہوں
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 113
پسند: 0
دِل کی ویرانیوں میں رہتا ہوں
اپنی تنہائیوں میں جلتا ہوں
۔۔۔
پتھروں کے مکان پختہ ہیں
مَیں آتش فشاں میں خستہ ہوں
۔۔۔
جگنو آنکھوں میں ٹمٹماتے ہیں
آرزو کے نگر میں جلتا ہوں
۔۔۔
آسماں کا ہُوں اور زمیں کا بھی
کیسے کس کو مَیں چھوڑ سکتا ہوں
۔۔۔
بے یقینی میں بدگمانی ہے
ابرِ امکان کو ترستا ہوں
۔۔۔
عمر بھر آندھیوں کی زد میں رہا
چپ کی شورش سے اب مَیں ڈرتا ہوں
واپس جائیں