انتظار
...
شام بھیگنے لگی ، درد جاگنے لگا
چشمِ منتظر سے اَشک،
دھیرے دھیرے خوف سے
لرز کر بہنے لگے
کیسا انتظار ہے؟
کِس کا انتظار ہے؟
سانس کی ڈوری تو اب
وقت کی کٹھورتا سے،
ہُوئی بے مہار ہے
زیست بے قرار ہے
گاؤں گاؤں گھوم کر
ہر جگہ پُکار کر
تھگ گیا ہے ہار کر
من ہے کیسا بانورا
مقبروں کے اِردگرد
اب بھی ہے یہ مُنتظر