یاد ہے تُجھ کو؟
...
یخ بستہ وہ رات اے چندا
یاد ہے تُجھ کو ؟
تُو ہی تو سب دیکھ رہا تھا۔
اُجلی گلیاں، پگھلی چاندی
سنّاٹا
پھر دھیرے دھیرے، قدموں کی آہٹ کو سُن کر
پریم بھون کا ، ہولے سے دروازہ کھُلا تھا
شعلہ لپکا، آگ سے لپٹا
یاد ہے تُجھ کو ؟
تُو ہی تو سب دیکھ رہا تھا ۔
دو دِل یکساں دھڑکے تھے
سُنسان نگر، ویران گلی میں
سَرد سی رات میں، من کی آگ میں
پیار کا کُندن دَمک رہا تھا۔
یاد ہے تُجھ کو ؟
صدیوں کی پھر تیز ہوا نے
سنّاٹے کو کیسے چیرا
کیسے اُس نے پریم نگر میں
پریم کے جَل میں آگ لگا دی
پریم نگر کی سُبک خراماں، ناؤ جلا دی
یاد ہے تُجھ کو ؟
تُو ہی تو سب دیکھ رہا تھا۔