آس
...
کھو گئی ہیں منزلیں، گم ہوئے ہیں راستے
تھک گئے قافلے، زندگی کے موڑ پر ،
سر کو کُچھ نیہوڑ کر
سوچ میں ڈُوبے ہوئے ہیں
دِل میں ایک آس ہے
جب تلک یہ سانس ہے
...
دھُند لکے میں شام کے ،
جیسے حُسنِ سوگوار سُرخ سے لباس میں
اپنے حنائی ہاتھ میں،
نُقرئی تھامے چراغ
مقبروں کے آس پاس
محوِ انتظار ہو