آزادی
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 135
پسند: 0
آنکھ جب آنسو کے بدلے خون ٹپکانے لگے
کھیل پروانوں کا تب ہر سُو نظر آنے لگے
...
شب کی تاریکی میں پھر بجلی کا اِک کوندا ہُوا
خون کے دھارے نئی تاریخ لِکھ جانے لگے
...
گونج اُٹھی للکار جب پھر ایشیا میں دوستو
غاصبوں کے محل تب یک لخت تھرّانے لگے
...
بن گئے دیوارِ آہن جب عدُو کے سامنے
آہنی پَیکر پہاڑوں سے بھی ٹکرانے لگے
...
کر لیا اپنے لہُو سے جب رقم تقدیر کو
مرہمِ تدبیر سے پھر زخم بھر آنے لگے
...
دہر کا جب سحر ٹُوٹا شب کی طولانی کے بعد
نُور کے مینار و گنبد تب نظر آنے لگے
...
ایک بِکھرا خواب سِمٹا اور حقیقت بن گیا
دھُند میں لِپٹے ہیُولے روشنی لانے لگے
...
اپنا تو صحرا بھی نخلستان سے کُچھ کم نہیں
ریت کے ٹیلے تھے جو کُہسار کہلانے لگے
...
پالی آزادی بالآخر توڑ کر باطل فسوں
کہکشاں و ماہ و انجم نُور بَرسانے لگے
...
(مجموعۂ کلام ’’سرِ شہرِ سنگ بدست‘‘ سے ماخوذ)
واپس جائیں