وائے حسرت کہ چمکتا ہوا سورج ڈوبے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 146
پسند: 0
وائے حسرت کہ چمکتا ہوا سورج ڈوبے
پسِ زنداں بھی کوئی چا ند سا سورج ڈوبے
کیسا منظر ہے کہ بادل میں سمندر ڈوبے
دور افق پر کوئی بھٹکا ہوا سورج ڈوبے
آسماں شام کے منظر میں ہوا بادہ کش
تیری آنکھوں میں بہکتا ہوا سورج ڈوبے
دل وحشت تیری باتوں میں کوئی ربط نہیں
اک بھنور سے بھی ابھرتا ہوا سورج ڈوبے
موج دل تیرے صحیفے میں ہیں اوراق بہت
دور ساحل پہ بھی لکھا ہوا سورج ڈوبے
گھنٹیاں دل میں بجیں یا کہیں معبد کا گجر
سجدہ گہ خاک میں چڑھتا ہوا سورج ڈوبے
آنکھ میں قطرہء خوں کی وجہ اب ڈھونڈ عصیم
بحر خونخوار میں معصوم سا سورج ڈوبے
واپس جائیں