پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
فرض کی ہم تکمیل کریں گے محنت کاروبار
...
فکر و نظر کے دامن کو ہم دولتِ فن سے بھر دیں
آؤ مِل کر نُورِ عِلم سے ہر دِل روشن کر دیں
عِلم کا دریا بہتا جائے تیز ہو اِسکی دھار
پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
...
اِتّحاد، تنظیم و یقیں کی شمعیں روشن کرد یں
پاکستان کی مانگ میں آؤ چاند ستارے بھر دیں
روشن کر دیں اِس کی گلیاں چمکا دیں بازار
پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
...
اپنا مسلک دیپ جلانا دیپ سے دیپ جلائیں
اِک دُوجے کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھتے جائیں
آؤ ساتھی بانٹ لیں مِل کر اِک دُوجے کا بار
پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
...
قائدِ اعظم کے فرماں کی کریں گے ہم تکمیل
دُنیا مانے جِس کو وہ کردار کریں تشکیل
اِک اِک شاہیں بن جائے اقبال کا اِک شہکار
پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
...
سر سیّدؔ اور حالیؔ جیسے متوالے بن جائیں
جہل کے اندھیاروں میں آؤ روشن دیپ جلائیں
تعمیری جذبوں سے وطن کو دیں زندہ کردار
پاکستان ہے وطن ہمارا ہم اِس کے معمار
...
مہکتے پھُول بنیں گی اِک دِن ننھّی ننھّی کلیاں
دَمکتا کُندن بن جائیں گی سونے کی یہ ڈلیاں
موتی موتی بنتا جائے جِلمل کرتا ہار
پاکستان ہے دیس ہمارا ہم اِس کے معمار
...
(مجموعۂ کلام ’’سرِ شہرِ سنگ بدست‘‘ سے ماخوذ)