گو گھڑی یہ کٹھن گذاری ہے
ونسینٹ پیس عصیم
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
گو گھڑی یہ کٹھن گذاری ہے
دِل کی بازی مگر ہماری ہے
...
وقت ہے وقت ، کٹ ہی جائے گا
قافلوں کا سفر تو جاری ہے
...
موت کا ہاتھ کتنا ظالم ہے
زندگی پر جمود طاری ہے
...
زخمِ دِل خودبخُود ہی بولیں گے
اب ہمارے جنوں کی باری ہے
...
خیر ہو تیرے آسمانوں کی
زندگی زندگی پہ بھاری ہے
...
اہتمامِ سحرِ جنوں تو نہیں
روشنی تیرگی پہ بھاری ہے
...
اے عصیمؔ احتیاط غنچوں سے
صحنِ گُلشن میں سنگباری ہے
واپس جائیں